1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اکنامکس کا نوبل انعام امریکی ریسرچرز کے نام

سال 2011ء کے لیے نوبل انعام برائے معاشیات دو امریکی محققین تھامس جے سارجنٹ اور کرسٹوفر اے سِمز کو دیا گیا ہے۔ ان محققین کو یہ انعام میکرو اکانومی کے حوالے سے ان کے کام پر دیا گیا ہے۔

default

میکرو اکانوی دراصل بڑے اقتصادی مسائل سے بحث کرنے والی معاشیات کی شاخ ہے۔ نوبل انعام کا اعلان کرنے والی سویڈن کی رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق: ’’ میکرو اکانومی پر اثرات کے حوالے سے ان کے اہم تحقیق پر ان ریسرچرز کو یہ انعام دیا جا رہا ہے۔‘‘

نوبل کمیٹی کے اعلان میں مزید کہا گیا ہے: ’’سارجنٹ اور سمز کی طرف سے تیار کردہ تجزیاتی طریقہ ہائے کار بین الاقوامی سطح پر میکرو اکانومی کے تجزیے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘‘ نوبل کمیٹی کے Per Krussel کے مطابق یہ طریقہ کار تعلیمی اور تحقیقی سطح کے علاوہ پالیسیوں کی تیاری کی سطح پر بھی استعمال ہو رہے ہیں۔‘‘

ان کی تحقیق کا موضوع اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ اگر کسی ملک کا مرکزی بینک شرح سود میں تبدیلی لاتا ہے تو اس سے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں

ان کی تحقیق کا موضوع اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ اگر کسی ملک کا مرکزی بینک شرح سود میں تبدیلی لاتا ہے تو اس سے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ان دو محققین نے انفرادی طور پر یہ طریقہ ہائے کار 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں وضع کیے تھے۔ کروسل کے مطابق ان دونوں ماہرین کی تحقیق اس طرح کے مسائل پر بحث کرتی ہے کہ ’اگر حکومت اپنے اخراجات بڑھاتی ہے یا مرکزی بینک شرح سود میں کمی کر دیتا ہے تو اس سے کسی بھی ملک کی معاشیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘‘

1943ء میں پیدا ہونے والے تھامس جے سارجنٹ نیویارک یونیورسٹی میں اکنامکس اور بزنس پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق کا مرکزی نقطہ معاشی پالیسی میں تبدیلیاں مثلاﹰ افراط زر کے اہداف وغیرہ ہیں۔

کرسٹوفر اے سِمز ریاست نیو جرسی کے شہر پرنسٹن میں قائم پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر برائے اکنامکس اور بزنس ہیں۔ ان کی تحقیق کا موضوع اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ اگر کسی ملک کا مرکزی بینک شرح سود میں تبدیلی لاتا ہے تو اس سے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

معاشیات کا نوبل انعام حاصل کرنے والے ان دونوں ماہرین کو 10 ملین کرونے بھی بطور انعام ملیں گے۔ یہ رقم 1.4 ملین امریکی ڈالرز کے قریب بنتی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عدنان اسحاق

 

DW.COM