1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اکمل برادارن :سٹیوا ، مارک وا کے نقش قدم پر

ویسٹ انڈیز میں ہوئے حالیہ ٹونٹی20عالمی کپ میں حریف بالرز کے چھکے چھڑانے والے پاکستانی اکمل برادران آسٹریلوی بھائیوں کی مشہورجوڑی، وا برادرز کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔

default

لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ریڈیو ڈوئچے ویلے کو دیے گئے خصوی انٹرویو میں وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے اپنے چھوٹے بھائی عمر اکمل کی موجودگی میں کہا کہ ہم دونوں بھائی بین الاقوامی کرکٹ میں مارک وا اور سٹیوا کی طرح کی کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں۔کامران کے مطابق وا برادران نے آسٹریلوی ٹیم کو ناقابل تسخیر قوت اور عالمی چیمپین بنوانے میں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

’’ہم دونوں بھائیوں کی بھی خواہش ہے کہ جس طرح آسٹریلوی بھائیوں نے 100ٹیسٹ میچ کھیلے اس طرح ہم بھی اپنے ملک کی طویل عرصے تک خدمت کر سکیں ۔ پاکستان ٹیم کی عالمی رینکنگ کو بہتر بنا کر اسے ماضی کی طرح دوبارہ دنیا کی سرکردہ پہلی دو ٹیموں میں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ کل جب ہم کھیل کو خیر باد کہیں تو لوگ ہم دونوں بھائیوں کو بھی چیپلزبرادرز، محمد برادران اور وا برادرز کی طرح کھیل اور فتوحات میں کردار کے حوالے سے یاد رکھیں۔‘‘

واضح رہے کہ کامران اکمل پاکستان کی طرف سے 48 اور 19سالہ عمر اکمل چھ ٹیسٹ کھیل چکے ہیں جبکہ سٹیوا نے آسٹریلیا کی طرف سے ریکارڈ 168اوران سے چند منٹ چھوٹےجڑواں بھائی مارک وا نے 128ٹیسٹ میچز کھیلے تھے۔

T 20 Cricket World Cup 2010 Pakistan Bangladesh

ٹی ٹوئنٹی کے پہلے میچ میں اکمل بنگلہ دیش کے خلاف بیٹنگ کے دوران

کامران اکمل نے بتایا : ’’ہم دونوں بھائی ہر دم کچھ سیکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ہم اپنے کھیل میں نکھار لانے کے لئے سینیئر کھلاڑیوں سے مشاورت کوکوئی عار نہیں سمجھتے۔ حال ہی میں ایشین بریڈمین ظہیر عباس نے ہم دونوں کی پزیرائی کرتے ہوئے کراچی میں اپنے گھر کھانے کی دعوت دی ۔ماضی کے اس عظیم بیٹسمین کے ساتھ گزرے پانچ گھنٹے میرے اور عمر کے لئے ناقابل فراموش لمحات تھے ۔ظہیر بھائی نے ہمیں کئی ٹپس دئے۔‘‘

کامران اکمل جنہیں حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیومیں دو سابق کوچز انتخاب عالم اور عاقب جاوید کی جانب سے میچ فکسنگ کے سنگین الزامات کا سامنا ہے کہا : ’’میں پاکستان کے بارے کبھی برا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس ملک نے مجھے عزت شہرت اور سب کچھ دیا۔ میں نے خود ویڈیو نہیں دیکھی صرف لوگوں سے سنا ہے۔ دونوں کوچزکے ساتھ ٹیم میں دو سال گزارے اس لئے ان کے الزامات میرے لئے ناقابل یقین اور افسوس ناک ہیں۔‘‘

اس سوال پر کہ آیا وہ ان الزامات پر ملک کی آزاد عدلیہ کا دروازہ کھٹکٹائیں گے؟ کامران نے کہا کہ وہ کسی قسم کے تنازع میں ملوث ہونے کی بجائے اپنی توجہ بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ ’’میرا پی سی بی کے ساتھ سینٹرل کنٹریکٹ ہے ۔ اس لئے پر امید ہوں کہ بورڈ میرے مفاد اور حق کا خود ہی خیال کرے گا۔‘‘

ایک سوال پر کامران اکمل نے بتایا کہ پاکستانی کرکٹ تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔ ’’ہم اپنی تمام سیریز ملک سے باہر کھیلنے پر مجبور ہیں۔ انگلینڈ کا مشکل دورہ اور عالمی کپ 2011سر پر ہے۔ ان حالات میں ہمیں تنازعات اور الزامات سے گریز کرنا چاہے۔‘‘

Kamran Akma

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اکمل برداران نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا

ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ میں کامران اکمل کی زیر عتاب وکٹ کیپنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتری دکھائی دی ۔ کامران نے اس حوالے سے کہا : ’’لوگ آج بھی سڈنی ٹیسٹ میں چھوڑے ہوئے کیچ کو تو یاد کرتے ہیں مگر کوئی ٹیسٹ کرکٹ میں میرے 181شکاروں کا تذکرہ نہیں کرتا۔میں محنت پر یقین رکھتا ہوں۔ میں غیر ملکی دورے کے اگلے روز ہی نیشنل اکیڈمی پریکٹس کے لئے پہنچ جاتا ہوں اور میری وکٹ کیپنگ میں بہتری کا کریڈٹ اکیڈمی کوچ محتشم رشید، ڈاکٹرجمیل اور وسیم باری کے مشوروں کو جاتا ہے۔‘‘

کامران اکمل نے نئے کپتان شاہد آفریدی کو سراہتے ہوئے کہا : ’’میں آٹھ برس سے شاہد کے ساتھ ٹیم میں کھیل رہا ہوں ۔ انہوں نے حالیہ ورلڈ کپ میں جس طرح ٹیم کو متحد اور متحرک کیا وہ قابل تعریف تھا۔ کپتان آفریدی کوچز وقار یونس اور اعجاز احمد نے ہر کھلاڑی کی ویسٹ انڈیز میں بے پناہ مدد کی اور وہاں جو ٹیم کا اتحاد تھا، وہ برقرا ر رہنا چاہیے۔‘‘

کامران اکمل نے کہا کہ کپتان کو اپنی صلاحیتو ں کے اظہار کے لئے زیادہ وقت ملنا چاہئے۔

28سالہ کامران اکمل موجودہ ٹیم کے چند ایک کھلاڑیوں میں سے ہیں، جو کھیل کے تینوں فارمیٹس ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی20میں ٹیم کی ضروت ہیں مگر دو بار نائب کپتان بننے کے باوجود وہ اپنے ٹیم میٹس کی طرح کبھی بھی کپتانی کے پیچھے نہیں دوڑے۔ اس بابت گفتگو کرتے ہوے اکمل نے کہا کہ ملک کی کپتانی کرنا اعزاز کی بات ہے مگر ملک کی نمائندگی کرنے کو وہ زیادہ بڑا اعزاز سمجھتے ہیں اس لئے کپتانی کی دوڑ میں شامل ہونے سے متعلق کبھی نہیں سوچا۔

رپورٹ : طارق سعید، لاہور

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM