1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اکسٹھ سالہ امریکی خاتون کی تیس گھنٹوں تک تیراکی

اکسٹھ سالہ ڈیانا نیاڈ کیوبا سے فلوریڈا تک 166 کلومیٹر طویل فاصلے کو شارک مچھلیوں سے بچنے کے پنجرے کے بغیر تیر کر عبور کرنے کے لیے پرعزم تھیں مگر شاید قدرت کو ان کی یہ کامیابی منظور نہیں تھی۔

default

دمے کے حملے، کندھے میں شدید تکلیف اور تند و تیز ہواؤں اور سمندری لہروں کے باعث وہ اپنا سفر بیچ منجدھار میں چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ امریکی نژاد ڈیانا نے تیس سال قبل 28 سال کی عمر میں اسی فاصلے کو طے کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت بھی وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں تھیں۔

اسٹاک آئی لینڈ کے ’کی ویسٹ یاچ کلب‘ میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں انہوں نے کہا، ’’میرا خیال تھا کہ اس بار کامیابی میرا مقدر بنے گی۔ ہمارے خیال میں موسمی حالات سازگار تھے اور میں نے تیرنے کا آغاز کیا۔ تاہم یہ خام خیالی تھی۔ ہواؤں کی رفتار تیز تھی اور سمندری موجیں میری توقعات سے کہیں بڑی تھیں۔‘‘

طویل فاصلے تک تیراکی کی ماہر ڈیانا نے جب اتوار کو امریکی وقت کے مطابق رات پونے آٹھ بجے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کے مغربی نواحی علاقے مرینہ ہیمنگ وے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تو سمندر پرسکون تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے بتایا کہ انہیں دمے کا غیر معمولی حملہ ہوا، جس کے باعث وہ آکسیجن کے لیے ہانپنے لگیں۔

Peking 2008 - Paralympics - Melissa Stockwell pixel

ڈیانا نیاڈ نے 1979 میں بہاماس سے فلوریڈا تک 165 کلومیٹر کا فاصلہ تیر کر عبور کیا تھا

کچھ ہی دیر بعد ان کے دائیں کندھے میں شدید تکلیف شروع ہو گئی اور ساتھ ہی سمندر میں مدو جزر کے باعث بلند لہریں اٹھنے لگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر میں ان کی یہ حالت ہو گئی کہ ان کی ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں اور وہ پانی میں اندھا دھند ہاتھ مارنے لگیں۔ ایک مرحلے پر ان کے ڈاکٹر نے پانی میں اتر کر انہیں آکسیجن کا انہیلر فراہم کیا۔

نیاڈ کی اس تیراکی کی فلم بندی کے لئے بعض کشتیاں بھی ان کے ہمراہ چل رہی تھیں اور ان میں سوار ایک پروڈیوسر نے بتایا کہ جب ڈیانا کو پانی سے نکال کر باہر لایا گیا، تو انہیں قے ہو رہی تھی۔

اگرچہ ڈیانا نیاڈ اپنی اس ناکامی پر مایوس ہیں مگر انہیں اس فاصلے کو تیر کر عبور کرنے کی کوشش پر کوئی افسوس نہیں۔ وہ رواں ماہ 62 سال کی ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا سے فلوریڈا تک تیرنے کی کوشش کا بنیادی مقصد اپنے ہم عمر اور خود سے بڑے لوگوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ وہ اس عمر میں بھی کافی کچھ کر سکتے ہیں۔

نوجوانی میں ڈیانا نے تیراکی میں کئی ریکارڈ قائم کیے تھے اور انہوں نے 1975 میں آٹھ گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورے مین ہٹن کے گرد چکر لگایا تھا جبکہ 1979 میں انہوں نے بہاماس سے فلوریڈا تک 165 کلومیٹر کا فاصلہ تیر کر عبور کیا تھا۔

ان کی ناکامی کے باوجود منگل کو ان کے مداحوں نے ٹویٹر پر ان کی تعریف کی۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنے والے بعض تاثرات میں کہا گیا کہ ڈیانا کا مقصد ہی یہ باور کرانا تھا کہ عمر کی قید مشکل کاموں کو نہیں روک سکتی۔

ڈیانا سے جب پوچھا گیا کہ آیا وہ ایک بار پھر اس تیراکی کی کوشش کریں گی تو ان کا کہنا تھا، ’’آپ فطرت کو شکست نہیں دے سکتے۔ میرے خیال میں میں کیوبا سے فلوریڈا تک تیراکی کیے بغیر ہی اپنی قبر میں چلی جاؤں گی۔‘‘

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM