1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

اکثر فرانسیسی ورزش کے بغیر فٹنس کے خواہش مند

ہو سکتا ہے کہ فرانسیسی باشندوں کو یہ بات تو بہت پسند ہو کہ وہ خوبصورت نظر آئیں، لیکن خوبصورت نظر آنے کی خاطر ورزش کرنے اور اپنا پسینہ بہانے کے لئے زیادہ فرانسیسی شہری تیار نہیں ہیں۔

default

فرانس میں اس بارے میں عوامی شعور مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے کہ صحت مند خوراک اور جسمانی ورزش کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ تاہم اس یورپی ملک میں ورزش کے لئے کسی Gym یا ہیلتھ کلب میں جانا آج بھی ایک ایسی مصروفیت ہے، جو عام شہریوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت ہی کا مشغلہ ہے۔

Frauen im Fitness Studio

خوبصورتی اور فٹنس کا راز، صحت مند خوراک اور جسمانی ورزش

فرانس میں صحت عامہ کا نظام قدرے فراخدلانہ ہے۔ فرانسیسی باشندے اپنے گھروں سے باہر ثقافتی سرگرمیوں کے لئے وقت نکالنا بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ملک میں مناسب قیمت پر اچھے ہیلتھ کلب استعمال کرنے کے امکانات بھی مقابلتاﹰ کم ہیں۔

یہ وہ وجوہات ہیں جن کے سبب فرانس میں ہیلتھ کلبوں کا استعمال کرنے والے شہریوں کی تعداد اسپین اور اٹلی جیسے یورپی ملکوں میں ایسے شہریوں کی اوسط سے بھی کم ہے۔

یہ بات اس لئے اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ اٹلی اور اسپین جیسے ملکوں میں تو ایک عام شہری کی اوسط آمدنی ایک عام فرانسیسی کی ماہانہ آمدنی سے واضح طور پر کم ہوتی ہے۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں 21 برس تک رہائش پذیر رہنے والے ایک امریکی فٹنس ایڈوائزر Fred Hoffman کے بقول انہیں ایسا لگتا ہے کہ ایک عام فرانسیسی باشندہ کسی کیفے میں بیٹھ کر تمباکو نوشی کرنا اور کافی پینا زیادہ پسند کرتا ہے۔

فریڈ ہوفمین کہتے ہیں: ’’میری رائے میں فرانسیسی باشندوں کی اکثریت کے پاس جسمانی ’ورک آؤٹ‘ کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے کہ وہ فزیکل فٹنس کو ایک لائف سٹائل کے طور پر دیکھتے ہی نہیں۔‘‘

فرانسیسی عوام کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھنے والے اس امریکی فٹنس ٹرینر کے مطابق اس ملک میں جسمانی ورزش کے لئے کسی ہیلتھ کلب میں جانا اس لئے بھی زیادہ رواج نہیں پکڑ سکا کہ فرانسیسیوں کی فارغ وقت کی تین پسندیدہ ترین مصروفیات میں آج بھی فٹ بال، ٹینس اور سائیکلنگ ہی سب سے نمایاں ہیں۔

Deutschland Frau im Fitnessstudio Flash-Galerie

2008 میں صرف 5.4 فیصد فرانسیسی شہریوں نے کسی ہیلتھ کلب کی رکنیت لے رکھی تھی

انٹرنیشنل ہیلتھ اینڈ سپورٹس کلب ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں 2008 میں صرف 5.4 فیصد شہریوں نے کسی نہ کسی ہیلتھ کلب کی رکنیت لے رکھی تھی۔ اس کے برعکس دو سال قبل اٹلی میں یہی شر‌ح 9.5 فیصد، برطانیہ میں 11.9 فیصد اور اسپین میں تو 16.6 فیصد بنتی تھی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس