1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اکتیس برس کا ساتھ پل میں ٹوٹ گیا

اکتیس برس کے دوران پندرہ میوزک البم ریلیز کرنے والے امریکہ کے لیجنڈری روک گروپ REM نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ اب گروپ نہیں رہا۔

default

REM کے مرکزی گلوکار مائیکل سٹیپی

Shiny Happy People اور Everybody Hurts نامی مقبول گانوں کے خالق گروپ REM نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر لکھا، ’جس کسی کو بھی کبھی کسی وقت بھی ہمارا میوزک پسند آیا، ان تمام لوگوں کا بہت بہت شکریہ‘۔ گروپ کے مطابق وہ بہت پرسکون طریقے سے الگ ہو رہا ہے۔

نوے کی دہائی میں موسیقی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والے اس گروپ کے مرکزی گلوکار مائیکل سٹیپی اور گٹارسٹ پیٹربَک نے REMکو شہرت کی بلندیوں میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سٹیپی نے کہا،’کسی دانشمند نے کیا خوب کہا ہے کہ پارٹی میں شرکت کرنے والے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس نے اس پارٹی کو کب خیر باد کہنا ہے۔ ہم سب نے مل کر ایک غیر معمولی کام کیا لیکن تمام چیزوں کا ایک اختتام ہوتا ہے‘۔

اس گروپ نے 1992ء میں تین گریمی ایورڈ بھی حاصل کیے تھے۔ اس گروپ کا آخری البم رواں برس یعنی 2011ء میں ریلیز ہوا۔ Collapse into Now مجموعی طور پر اس گروپ کا پندرہواں ایسا البم تھا، جو اسٹوڈیوز میں ریکارڈ کیا گیا۔

Michael Stipe von R.E.M.

مائیکل سٹیپی جرمنی میں، فائل فوٹو

REM کے ٹوٹنے کی خبر عام ہونے کے بعد اس گروپ کے ایک رکن مائیک ملز نے کہا کہ جب انہوں نے اپنا آخری البم ریلیز کیا تو سب نے مل کر سوچا کہ اب کیا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا،’ہم ہمیشہ ہی صحیح معنوں میں ایک گروپ رہے۔ ایسے بھائی جو ایک دوسرے سے پیار اور عزت سے پیش آتے رہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مداح یہ بخوبی جان سکتے ہیں کہ اس گروپ کو ختم کرنے کا فیصلہ  کوئی آسان کام نہ تھا۔

REM نے اکثر اوقات اپنے میوزک میں بالخصوص نوجوان لوگوں کو ایک پیغام دیا۔ چار رکنی یہ گروپ 1980ء میں وجود میں آیا اور جلد ہی انڈر گراؤنڈز گروپوں میں اپنا ایک مقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس گروپ کو پہلا ’بریک تھرو‘ 1988ء میں ملا، جب اس نے Green نامی البم ریلیز کیا۔ 1991ء اور چورانوے کے دوران  اس گروپ نے اپنی باکمال موسیقی کی بدولت دنیا میں ایک اعلیٰ مقام بنا لیا۔ 1994ء میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اسے اپنا پسندیدہ گروپ قرار دیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس