1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اکتوبر کے آخر میں لیبیا میں نیٹو مشن کا اختتام

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے برسلز میں کہا کہ نیٹو اکتوبر کے اواخر تک لیبیا میں اپنا سات مہینے سے چلا آ رہا فضائی اور بحری مشن ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آندرس فوگ راسموسن

آندرس فوگ راسموسن

راسموسن نے کہا کہ اکتیس اکتوبر کو برسلز میں نیٹو کے رکن ملکوں کے سفیروں کا ایک اجلاس منعقد ہو گا اور اُسی روز لیبیا مشن کو اختتام تک پہنچانے کا عبوری فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ اگلے ہفتے متوقع ہے۔

کل اتوار تک لیبیا کی عبوری حکومت کی جانب سے لیبیا کی باقاعدہ آزادی کا اعلان متوقع ہے۔ اِس کے بعد مغربی دفاعی اتحاد بھی سلامتی کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے مشن کو اختتام تک پہنچانے کے بارے میں فیصلے کا اعلان کر دے گا۔

نیٹو کے جنگی طیاروں نے لیبیا پر چھبیس ہزار سے زیادہ پروازوں کے دوران قذافی کی فوجی تنصیبات پر تقریباً 9600 حملے کیے

نیٹو کے جنگی طیاروں نے لیبیا پر چھبیس ہزار سے زیادہ پروازوں کے دوران قذافی کی فوجی تنصیبات پر تقریباً 9600 حملے کیے

راسموسن نے برسلز میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ نیٹو کا اکتوبر کے بعد لیبیا کے آس پاس کے علاقے میں اپنی اَفواج مزید تعینات رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ہر طرح کی فوجی کارروائیاں ختم کر دی جائیں گی:’’نیٹو اکتیس اکتوبر تک حالات پر نظر رکھے گا اور لیبیا کے شہریوں کو درپیش کسی خطرے کی صورت میں ضرورت پڑنے پر کارروائی بھی کرے گا۔‘‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ نیٹو نے اقوام متحدہ کے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے ’نمایاں کامیابی‘ کے ساتھ لیبیا کے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا اور یہ کہ ’تاریخ میں یہ ایک خصوصی لمحہ‘ ہے:’’ہم نے بے مثال تیزی کے ساتھ اور بڑی احتیاط کے ساتھ ایک پیچیدہ آپریشن کیا اور مجھے فخر ہے کہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب رہے۔ اب لیبیا کے عوام کو اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہیے اور ایک ایسا نیا لیبیا تشکیل دینا چاہیے، جس کی بنیادیں جمہوریت، قانون کی حکمرانی، مفاہمت اور انسانی حقوق کی پاسداری پر ہوں۔‘‘

نیٹو مشن کے دوران سمندری حدود کی بھی نگرانی کی جاتی رہی ہے

نیٹو مشن کے دوران سمندری حدود کی بھی نگرانی کی جاتی رہی ہے

لیبیا کے معزول حکمران معمر قذافی، جو دو ماہ سے زیادہ عرصے سے روپوش تھے، جمعرات کو اپنے آبائی شہر سرت میں اپنے گاڑیوں کے قافلے پر نیٹو کے ایک فضائی حملے کے بعد پکڑے گئے تھے اور ہلاک کر دیے گئے تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا وہ ایسی تحقیقات کے حامی ہیں، جن سے پتہ چل سکے کہ قذافی کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی اور یہ کہ قذافی کو زندہ حالت میں پکڑ لیا گیا تھا، راسموسن نے کہا کہ یہ طے کرنا لیبیا کی حکومت کا کام ہے۔ راسموسن کے مطابق نیٹو نے جان بوجھ کر قذافی کو نشانہ نہیں بنایا اور یہ کہ اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ قذافی کا بیٹا سیف الاسلام کہاں ہے۔

نیٹو نے لیبیا کے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیوں کا آغاز اس سال اکتیس مارچ کو کیا تھا۔ اس دوران چھبیس ہزار سے زیادہ پروازیں عمل میں لائی گئیں۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس