1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اکتوبر فیسٹیول کا جشن بھی اور مہاجرین کا بحران بھی

میونخ شہر نے ہفتے کے روز ڈرم سے بیئر نکال کر دنیا کے سب سے بڑے بیئر فیسٹیول کا آغاز کر دیا ہے، مگر یہ شہر مہاجرین کے ایک تاریخی بہاؤ سے بھی نبرد آزما ہے۔

اس بیئر فیسٹیول میں ہر سال چھ ملین کے قریب شرکاء اور سیاح پہنچتے ہیں اور یہ شہر کسی بہت بڑے میلہ گھر کا روپ دھار لیتا ہے، تاہم اس بار باویریا صوبے کی روایات سے مزین اس میلے میں مہاجرین کے بحران کا رنگ بھی دکھائی دے رہا ہے۔

ہفتے کے روز اس میلے کے آغاز کے موقع پر شہر کے میئر ڈیٹر رائٹر نے بیئر کے گلاس کو دوسرے گلاس سے ٹکراتے ہوئے کہا، ’ایک پرامن اکتوبر فیسٹ کے نام‘۔

16 دن تک جاری رہنے والے اس سالانہ بیئر میلے میں جرمنی، یورپ اور دنیا بھر سے لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں۔ تاہم ایک اعشاریہ چار ملین کی آباد والا یہ شہر اس وقت یورپ میں مہاجرین کی آمد کے اعتبار سے بھی ایک مرکز میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں ہر بار بیس ہزار شامی، افغان اور عراقی مہاجرین پہنچے ہیں۔

Bildergalerie Von Bagdad nach München

ہزاروں مہاجرین جرمنی کا رخ کر رہے ہیں

اس شہر میں ان مہاجرین کو کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے ان مہاجرین کی امداد کی۔  تاہم گزشتہ اتوار کو جرمن سرحد پر بارڈ کنٹرول اقدامات نافذ کیے جانے پر میونخ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں خاصی کمی ہوئی ہے۔

باویریا کی مقامی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت سے استدعا کی گئی تھی کہ ان مہاجرین کو دیگر شہروں میں جگہ دی جائے کیوں کہ مہاجرین کی تعداد شہری انتظامیہ کے انتظامات کے اعتبار سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ میونخ شہر میں چھ ہزار مہاجرین کو عارضی پناہ گاہیں فراہم کی گئی ہیں۔ اب جرمن حکام آسٹریا کی سرحد سے ان مہاجرین کو بسوں میں بٹھا کر براہ راست دیگر شہروں کی جانب لے جا رہے ہیں۔

باویریا کے وزیرداخلہ ژواخم ہرمان نے متنبہ بھی کیا تھا کہ بیئر فیسٹیول کے موقع پر مسلم تارکین وطن اور مقامی باشندوں کے درمیان ثقافتی بنیادوں پر جھڑپیں بھی ممکن ہیں۔