1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اکتوبر انقلاب کے سو سال بعد ’عظیم‘ سوویت ریاست کا نشان نہیں

25 اکتوبر سن 1917 کو بالشویک انقلابیوں نے شاہی دارالحکومت سینٹ پیٹرز برگ میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ شروع کیا تھا۔ لینن کی رہبری میں مارکسی سوشلسٹ انقلاب کے بعد سن 1922 میں سابقہ سوشلسٹ سوویت یونین ریاست قائم ہوئی تھی۔

فروری سن 1917 سے سینٹ پیٹرزبرگ میں خوراک کی عدم دستیابی پر پیدا ہونے والی عوامی بےچینی نے دو انقلابوں کی راہ ہموار کی تھی۔ پہلا فروری کا انقلاب اور پھر سات ماہ بعد سوشلسٹ بالشویک انقلاب۔

روٹی اور دوسرے سامانِ خورد و نوش کی عدم دستیابی سے پیدا ہونے والے انقلاب کی شدت نے روسی بادشاہت کو ختم کر دیا۔ آخری روسی بادشاہ زار نکولس دوم نے تخت سے دو مارچ کو دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ فروری انقلاب کے بعد قائم ہونے والی عبوری روسی حکومت بھی مستحکم نہ ہو سکی۔ یہ حکومت عوامی بے چینی میں کمی لانے میں ناکام رہی اور لینن کی قیادت میں اٹھنے والے مارکسی بالشویک انقلاب کی راہ ہموار ہوتی چلی گئی۔ بالشویک انقلابیوں کے سامنے عبوری حکومت محض ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔

برلن میں ’لینن کی واپسی‘

سوویت انقلاب کے سو سال، تقریبات کے لیے کمیونسٹ حلقے سرگرم

چینی انقلاب کی 60 ویں سالگرہ، بیجنگ میں تقریبات

شمالی کوریا کے لیڈر کی روس آمد

بالشویک انقلاب کے بعد لینن نے اپنے ساتھیوں سمیت سن 1922  میں جس نے وسیع و عریض کمیونسٹ اور سوشلسٹ ریاست کو قائم کیا تھا، اُس کا سرکاری نام یونین آف سوشلسٹ سوویت ریپبلک (USSR) رکھا گیا۔ روسی بادشاہت کے کھنڈرات پر قائم ہونے والی سوشلسٹ ریاست اپنے قیام کی تقریباً سات دہائیاں مکمل کرنے کے بعد سن 1991 میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ اِس ریاست کے زوال کے بعد بالٹک، بعض یورپی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو مکمل آزادی حاصل ہوئی تھی۔

Jahrestag der Oktoberrevolution Moskau (picture-alliance/ dpa)

روسی کمیونسٹ اپنے انقلابی رہنما لینن کی تصویر کے ساتھ ایک ریلی میں شریک ہیں

سوشلسٹ ریاست کی جگہ وفاقی روس نے جنم لیا اور تقریباً گزشتہ چھبیس برسوں میں ماسکو حکومت اپنے سوشلسٹ ماضی کے ساتھ کوئی قرابت داری کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ بندرگاہی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کا نام سن 1924 میں لینن گراڈ کر دیا گیا تھا اور سن 1991 میں اسے موقوف کر کے سابقہ پرانے نام کو بحال کر دیا گیا۔ اسی طرح کئی مقامات سے بالشویک انقلاب کے مقبول رہنماؤں کے مجسموں کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ اس انقلاب کے سو سال مکمل ہونے پر ماسکو حکومت نے سرکاری سطح پر کسی بڑی تقریب کا  اعلان نہیں کیا ہے۔

Joseph Stalin (picture-alliance/dpa)

بالشویک انقلاب کا ایک اہم کردار جوزف اسٹالن

بالشویک انقلاب کے بعد مارچ سن 1917 میں تخت سے دستبردار ہونے والے بادشاہ نکولس دوم اور اُن بیوی بچوں سمیت کوہ یورال میں واقع شہر اکتارین برگ کے ایک بڑے گھر ایپاٹیف ہاؤس منتقل کر دیا گیا تھا۔ روسی زار کو اُن کے خاندان کے ہمراہ فروری کی عبوری حکومت نے پہلے ہی زیر حراست رکھا ہوا تھا۔ سارے شاہی خاندان کو وسط جولائی سن 1918 کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اب اسی ایپاٹیف ہاؤس پر شاہی خاندان کی یاد میں روسی آرتھوڈکس چرچ کی اجازت سے ایک بڑا گرجا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔

ایک سو برس قبل روس میں جولین کیلنڈر کا استعمال کیا جاتا تھا اور اُس وقت کا پچیس اکتوبر جورجین تقویم کے مطابق نو نومبر بنتا ہے۔ روس میں بالشویک انقلاب کے حکومتی کیلنڈر کو بھی جولین سے جورجین میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

DW.COM