1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اکبر بگٹی کی دسویں برسی، بلوچستان کے کئی علاقوں میں ہڑتال

پاکستانی صوبہ بلوچستان میں آج چھبیس اگست کو بلوچ قوم پرست رہنما اور سابق صوبائی وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی منائی گئی۔ اکبر بگٹی کو دو ہزار چھ میں مشرف دور میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

Pakistan Streik in Quetta

کوئٹہ میں بھی اکبر بگٹی کی دسویں برسی کے موقع پر ہڑتال کی گئی

نواب اکبر خان بگٹی کی یہ برسی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے زیادہ تر حصوں میں منائی گئی اور اس موقع پر صوبے کے بلوچ اکثریتی آبادی والے علاقوں میں مکمل جبکہ دیگر علاقوں میں جزوی طور پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ اس ہڑتال کی کال جمہوری وطن پارٹی، بلوچ یکجہتی کونسل اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے دی گئی تھی، جس کی کئی دیگر جماعتوں نے حمایت کی تھی۔

اس ہڑتال کے دوران کوئٹہ، مستونگ، قلات، خضدار، نوشکی، دالبندین، مچھ، سبی، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار، سوئی، تربت، پسنی، جیونی اور گوادر میں سبھی یا زیادہ تر کارباری مراکز بند رہے۔ اس موقع پر صوبے میں قیام امن کو یقینی بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور دیگر شہروں میں پولیس اور لیویز کے ساتھ ساتھ فرنٹیئرکور کی بھاری نفری بھی حساس علاقوں میں تعینات تھی۔

نواب اکبر بگٹی کو 26 اگست 2006ء کے روز سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ضلع کوہلو کے پہاڑی علاقے تراتانی میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں قوم پرستانہ علیحدگی اور شدت پسندانہ تحریک میں تیزی آ گئی تھی اور پر تشدد کارروائیاں قدرے زیادہ ہو گئی تھیں۔

Pakistan Präsident General Pervez Musharraf

اکبر بگٹی

اس صورت حال کی ذمہ داری حکومت نے چند بلوچ قوم پرست سرداروں اور سخت گیر موقف کے حامل بلوچ علیحدگی پسندوں پر عائد کی تھی اور بلوچستان میں مداخلت کے حوالے سے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

بگٹی کی ہلاکت کے بعد ان کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست پر 2009ء میں بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس غنی، سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف اور سابق وفاقی اور صوبائی وزراء آفتاب شیرپاؤ، میر شعیب نوشیروانی اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی عبدالصمد لاسی کو ملزمان نامزد کیا گیا تھا۔

بلوچستان کے سیاسی امور کے ماہر شکیل بلوچ کے بقول اکبر بگٹی کی ہلاکت نے صوبے میں علیحدگی پسندی کی تحریک تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت حکومت کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اکبر بگٹی نے پاکستان کی سلامتی کے خلاف کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ وہ ہمیشہ پارلیمانی سیاست کرتے رہے اور بلوچستان کے حقوق کے لیے بھی انہوں نے اپنی آواز پاکستانی فریم ورک میں رہتے ہوئے ہی بلند کی تھی۔‘‘

شکیل بلوچ نے بتایا کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمران بلوچستان کے زمینی حقائق سے آگاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’موجودہ حالات میں بلوچستان جن بحرانوں سے دوچار ہے، ان کی ایک بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ کی وہ بے حسی ہے، جس کا بلوچستان ہر دور میں شکار رہا ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت الزام تراشیوں کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے اور صوبے کی محرومی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔‘‘

اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالولی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام ساحلوں اور وسائل پر اپنے حقوق چاہتے ہیں مگر حکومت ان کی آواز دبانے کے لیے طاقت استعمال کر رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ دعوے قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں کہ بلوچستان کےعوام ترقی نہیں چاہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی جد و جہد کا محور ہی حقوق کا حصول ہے۔ اس وقت صوبے میں علیحدگی کی تحریک اس لیے دوبارہ زور پکڑتی جا رہی ہے کہ حکمرانوں پر صوبے کے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جب تک صوبائی وسائل پر عوام کے حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، حالات میں بہتری بہت مشکل ہو گی۔‘‘

Belutschistan Politiker und Rebellenführer Nawab Akbar Khan Bugti

اکبر بگٹی کو فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا

عبدالولی کا کہنا تھا، ’’یہ بہت ضروری ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے صوبے کی حقیقی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔ گوادر ہی کی مثال لے لیں، پورے ضلع میں عوام پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں اور پانی کا ایک ٹینکر ہزاروں روپے کی ادائیگی کے باوجود دستیاب نہیں ہوتا، مگر حکومتی سطح پر اس ضمن میں تاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔‘‘

بلوچستان میں حقوق کے حصول کی جد و جہد میں جہاں صوبے کے دیگر لوگ سراپا احتجاج ہیں، وہیں پر اکبر بگٹی کے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں بھی عوام کو محرومی کا سامنا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ایک سماجی کارکن صاحب جان بگٹی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں آج بھی عام لوگ اکثر بنیادی سہولیات زندگی سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے نکلنے والی گیس پنجاب سمیت ملک کے کئی دیگر علاقوں کو فراہم کی جاتی ہے لیکن مقامی لوگوں کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ عوام جب حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، تو انہیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت ہماری ترقی کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کرتی؟‘‘

نواب اکبر بگٹی، جن کی آج دسویں برسی ہے، 12 جولائی 1927ء کو بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ میں نواب محراب بگٹی کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈیرہ بگٹی ہی سے حاصل کی تھی۔ 1939ء میں وہ بگٹی قبیلے کے نواب منتخب ہوئے تھے اور اپنی زندگی میں کئی اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے صوبائی اور ملکی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

DW.COM