1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اڈیالہ جیل سے اغوا کئے گئے گیارہ قیدیوں کا سراغ مل گیا

دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور عدم برداشت سے انسانی حقوق کو خطرات لاحق ہیں۔

default

انسانی حقوق کے عالمی دن ہی کے موقع پر پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں نے تحریری طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چھ ماہ قبل اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد اغواء کیے گئے گیارہ قیدی ان کی تحویل میں ہیں۔ اس بارے میں خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل راجہ ارشاد نے جمعے کو سپریم کورٹ میں بیان داخل کرایا۔

مذکورہ افراد کو دہشت گردی کی مختلف وارداتوں کے الزام میں تقریباً تین سال قبل گرفتار کیا گیا تھا لیکن عدم ثبوت کی بناء پرعدالت نے انہیں تمام مقدمات سے بری کردیا۔ رواں برس انتیس مئی کو جب انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تو مبینہ طور پر انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے جیل کے احاطے سے ہی اغواء کر لیا ۔ بعد ازاں قیدیوں کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی۔

Supreme Court in Islamabad, Pakistan

سپریم کورٹ کی جانب سے تیرہ دسمبر تک مہلت دیے جانے کے بعد بالآخر ایجنسیوں نے ان افراد کے اپنے تحویل میں ہونے کا اعتراف کرلیا

اس دوران تمام خفیہ ایجنسیوں نے ان افراد کے اپنی تحویل میں ہونے سے انکار کر دیا ۔ لیکن پھر پنجاب کے ہوم سیکریٹری نے عدالت میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ان افراد کو آئی ایس ائی کے اہلکار لے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تیرہ دسمبر تک مہلت دیے جانے کے بعد بالآخر ایجنسیوں نے ان افراد کے اپنے تحویل میں ہونے کا اعتراف کرلیا۔ خفیہ ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد دہشت گرد ہیں اور انہیں فوج کے خلاف لڑتے ہوئے حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

راجہ ارشاد نے کہا، " اڈیالہ جیل سے رہا ہونے والے گیارہ افراد دہشت گرد ہیں ان کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے، کئی دہشت گردی کے واقعات میں یہ ملوث ہیں جن میں جی ایچ کیو، حمزہ کیمپ اور کامرہ کمپلیکس پر حملےشامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی کی وین اور راولپنڈی کے علاقے ویسٹریج میں ایک جامع مسجد میں جمعہ کے دن خودکش بمبار نے معصوم لوگوں کا قتل عام کیا تھا یہ سب ان میں ملوث ہیں۔"

دوسری جانب ان گیارہ افراد میں شامل ڈاکٹر نیاز علی کے ماموں کا کہنا ہے کہ عدالتیں ان افراد کو تمام الزامات سے بری کر چکی ہیں اور یہ کہ ایجنسیوں نے اپنا جرم چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا، " یہ تین ججوں کے سامنے کچھ ثابت نہیں کر سکے اگر ان تین ججوں کا فیصلہ غلط ہے تو پھر ساری عدلیہ ہی غلط ہے۔ حکومت غلط کہہ رہی ہے ، ایجنسیاں غلط کہہ رہی ہیں کیونکہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور ان کو ایسا بیان دینے پر شرم آنی چاہیے۔ "

سپریم کورٹ نے خفیہ ایجنسیوں کے وکیل کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ ان قیدیوں کی اپنے لواحقین سے ملاقات کا بندوبست کریں۔ اب اس مقدمے کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس