اڈومينی ميں پھنسے پناہ گزين حالات کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہيں؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 10.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اڈومينی ميں پھنسے پناہ گزين حالات کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہيں؟

شمالی يونان ميں اڈومينی کے مقام پر کئی مہينوں سے پھنسے مہاجرين اب اپنا پيٹ پالنے اور ديگر ضروريات پوری کرنے کے ليے نت نئے طريقے اختيار کر رہے ہيں۔ بہت سوں نے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کر ليے ہيں۔

سامنے کچھ ہی فاصلے پر سرحد ہے جہاں دھاری دھار باڑ نصب ہے۔ مقدونيہ کے فوجی چوکنا کھڑے ہيں۔ ادھر پينتيس سالہ عراقی پناہ گزين صائمہ ہوڈيپ اسٹيل کی ايک راڈ کی مدد سے روٹی کے ليے آٹا گوند رہی ہے اور اس کی منتظر ہے کہ کچھ صارفين آئيں گے اور اس سے روٹی خريديں گے۔ شمالی يونان ميں اڈومينی کے مقام پر اپنا پيٹ پالنے کے ليے اس قسم کا چھوٹا موٹا کام کرنے والی صائمہ تنہا نہيں بلکہ انتظار کرتے کرتے اور حالات سے تھک ہار کے کئی لوگ اس راستے پر چل رہے ہيں۔ يونان اور مقدونيہ کی سرحد پر واقع اڈومينی کے مہاجر کيمپ ميں اس وقت بھی قريب دس ہزار پناہ گزين قيام پذير ہيں۔ يہ يورپ کا اس وقت سب سے بڑا مہاجر کيمپ ہے اور يہاں مقيم لوگ، يونانی حکام کی تمام تر کوششوں کے باوجود يہ مقام چھوڑنے کو تيار نہيں۔

صائمہ يوميہ بنيادوں پر تقريباً ايک سو روٹياں فروخت کرتی ہے۔ اس کی سترہ سالہ بيٹی ساون کہتی ہے، ’’کچھ ہی ہفتے قبل ہمارے پيسے ختم ہونے کے بعد ميرے والدين کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، انہيں رقم کا انتظام کرنے کے ليے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔‘‘

چار ماہ قبل شروع ہونے والے اڈومينی کے اس کيمپ ميں اس وقت شامی، عراقی اور افغان پناہ گزين پناہ ليے ہوئے ہيں۔ جس وقت يہ کيمپ شروع ہوا تھا، اس وقت جرمنی جيسے ملکوں ميں پناہ کے ليے متعدد تارکين وطن اس راستے سے مغربی يورپ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ تاہم بعد ازاں بلقان خطے کے ممالک کی جانب سے متعارف کردہ سرحدی بندشوں کے نتيجے ميں يہ عمل رک گيا اور اس مقام پر موجود ہزارہا پناہ گزين يہيں پھنس کر رہ گئے۔ يونانی حکام کی کوششوں اور مقدونيہ کی افواج کی جانب سے آنسو گيس کے استعمال کے باوجود يہ لوگ وہاں سے ہلنے کا نام ہی نہيں ليتے۔

آج کل اس کيمپ ميں تين مساجد ہيں، چھوٹے بچوں اور بڑے بچوں کا ايک ايک اسکول ہے اور مشرق وسطیٰ کے معروف پکوان فلافل بنانے کی کم از کم چار دکانيں ہيں۔

رعيد انبوٹے کا تعلق شامی شہر حلب سے ہے۔ وہ اڈومينی ميں تين ماہ سے پھنسا ہوا ہے جب کہ اس کے اہل خانہ جرمنی پہنچ چکے ہيں۔ پچھلے دس دنوں سے وہ اپنا پيٹ پالنے کے ليے فلافل بنا کر بيچ رہا ہے۔ اسی طرح کی ايک اور مثال رضوان کيکو کی ہے، جو انتيس سالہ ہے اور فلسطين کا رہنے والا ہے۔ وہ آج کل کيمپ ميں پھل وغيرہ فروخت کرتا ہے تاکہ شوگر کی مريضہ اپنی والدہ کے ليے انسولين اور ديگر ادويات خريد سکے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے مقامی دفتر کے سربراہ مارکو برونو کے بقول ايسے چھوٹے چھوٹے کاروباروں کا فروغ ممکنہ طور پر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ يہ لوگ سمجھ چکے ہيں کہ بارڈر اب بند ہی رہے گا۔