1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اچھی مائیں، بہترین نسلیں

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں طرح کے معاشروں میں بچوں کی پیدائش کی شرح کے بارے میں نہایت دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

default

جن معاشروں میں خواتین کی صحت اور ان کے معیار زندگی پر توجہ دی جاتی ہے وہاں نئی نسل بھی پھلتی پھولتی اور ترقی کی طرف گامزن دکھائی دیتی ہے

معروف فرانسیسی جنرل اور حکمران نپو لین بونا پارٹ نے کہا تھا ٫ تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں بہترین نسلیں دوں گا- یہ مقولہ محض ترقی یافتہ مغربی معاشروں پر صادق نہیں آتا بلکہ یہ ایک عالمگیر حقیقت ہے- افزائش نسل میں گرچہ مردوں اور خواتین دونوں کا برابر کردار ہوتا ہے تاہم عورتوں کو خالق نے دنیا میں ایک نئی زندگی لانے کا ذریعہ بنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں خواتین کی صحت اور ان کے معیار زندگی پر توجہ دی جاتی ہے وہاں نئی نسل بھی پھلتی پھولتی اور ترقی کی طرف گامزن دکھائی دیتی ہے-

Junge Mutter in Zentralnigeria

بعض افریقی ممالک میں خاندان بچوں کی تعداد میں مزید کمی کی خواہش رکھتے ہیں

"کم بچوں کی پیدائش خوشحال گھرانے کی علامت ہوتی ہے"- یہ کہنا ہے اقوام متحدہ کے عالمی آبادی کے شعبے کے نائب سربراہ Thomas Büttner کا جنہوں نے حال ہی میں دنیا کی آبادی کے بارے میں پیش گوئی پر مشتمل اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ پیش کی- اس رپورٹ کے ذریعے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں طرح کے معاشروں میں بچوں کی پیدائش کی شرح کے بارے میں نہایت دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں- کینیا میں 25 فیصد خاندان بچوں کی تعداد میں مزید کمی کی خواہش رکھتے ہیں۔

اگر ہم ایک نومولود بچی کا فرضی نام انا رکھ لیتے ہیں ساتھ یہ بھی تصور کر لیتے ہیں کہ یہ یکم جنوری سن دو ہزار پچاس کو پیدا ہوگی تو یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوگا جب اقوام متحدہ کی دنیا کی کل آبادی سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں چھپنے والے اعداد وشمار صحیح ثابت ہوں- مثلاٍ اگر سن دو ہزار پچاس میں دنیا کی کل آبادی بڑھ کر 9 بلین سے بھی زیادہ ہو جائے تو انا کا شمار بھی مستقبل میں اس سیارے پر زندگی بسر کرنے والے کروڑوں انسانوں میں ہوگا- آخر اقوام متحدہ کی طرف سے سن دو ہزار پچاس تک زمین پر بسنے والے انسا نوں کی تعداد کے 9 ارب سے زیادہ ہوجانے کی پیش گوئی کیوں کی گئی ہے؟ اقوام متحدہ کے عالمی آبادی کے شعبے کے نائب سربراہ Thomas Büttner اس کے جواب میں کہتے ہیں "اقوام متحدہ کے اس اندازے کی بنیاد ترقی پذیر ممالک میں واضح طور پر اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں واقع ہونے والی اوسطاٍ کمی ہے"

Familienplanung in Indien

بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں حکومتیں نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر فیملی پلاننگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں

تاہم جرمنی کی ورلڈ پاپولیشن فاؤنڈیشن کی مینیجنگ ڈائریکٹر Renate Bähr کے خیال میں جنوبی افریقہ اور ایشیا کے متعدد ممالک میں اب بھی فیملی پلاننگ کے مناسب بندوبست کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ خاص طور سے مانع حمل ذرائع یا تو غریب عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتے ہیں یا پھر تعلیم کی کمی کے باعث اس سلسلے میں اب بھی عام لوگوں میں شعور بیدار نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو رقم فیملی پلاننگ کے ذرائع پر خرچ ہوسکتی ہے اس کی ضرورت عام گھرانوں میں بچوں کی تعلیم اور ان کی صحت کے لئے ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی شامل ہے کہ سن دو ہزار پچاس تک اس وقت کی طرح دنیا بھر میں خواتین اوسطاٍ تین بچے پیدا نہیں کریں گی بلکہ فی عورت دو بچے تک کی پیدائش متوقع ہوگی- اس کی وجہ سست رفتاری سے مگر مسلسل بنیادوں پر فیملی پلاننگ سے متعلق عوامی شعور میں ہونے والا اضافہ اور فیملی پلاننگ کے کامیاب تجربے ہیں- تاہم سن دو ہزار پچاس تک مختلف معاشروں میں افزائش نسل کی شرح ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے کی بھی امید کی جا رہی ہے-

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا کے 49 غریب ترین ممالک، جن میں نائجیریا،صومالیہ ا ور Sierra Leone جیسے افریقی ممالک شامل ہیں ،کی آبادی دوگنا ہو جائے گی- ماہرین نے بھارت میں بھی آبادی میں اضافے کے سبب رہائشی جگہ کی شدید قلت سے انتباہ کیا ہے-

(اس موضوع پر اقوام متحدہ کے پاکستان متعین Gender Adviser سلمان آصف کی کشور مصطفی کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے لئے نیچے دیے گئے لنک پرکلک کیجئے)

Audios and videos on the topic