1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’اچھی زندگی کے لیے جیل ہی بہتر ہے‘

ہر نیا دن ایک سا ہے۔ وہ ہر صبح چھ بج کر 45 منٹ پر اٹھتے ہیں، ٹھیک بیس منٹ بعد ناشتہ کرتے ہیں اور پھر آٹھ بجے کام پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ہے جاپان میں کسی نوکری پیشہ شخص کی زندگی۔

مگر اسی برس سے زائد عمر کا ایک شخص جیل میں ہے۔ وہ آہنی سلاخوں اور کنکریٹ کی دیواروں سے بنے اس قید خانے سے نکلنے کے تصور سے بھی لرزاں ہے۔

ٹوکیو کی فوچو جیل میں چوری کی کوشش کے جرم میں قید ایک معمر شخص نے نام ظاہر بتائے بغیر کہا، ’’مجھے معلوم نہیں یہاں سے نکلنے کے بعد کسی زندگی مجھے گزارنا پڑے گی۔ مجھے اپنی صحت اور مالی صورت حال کا خوف لاحق ہے۔‘‘

یہ اس ایک شخص کی حالت نہیں بلکہ جاپان میں جرائم کی ایک نئی لہر دیکھی جا رہی ہے اور وجہ یہ ہے کہ یہاں جیلوں کی صورت حال نرسنگ ہومز یا دیکھ بھال کے مراکز جیسی ہے۔ طویل العمر افراد کی جانب سے کیے جانے والے جرائم کی شرح کی حالت یہ ہے کہ جاپانی حکومت نے ملک 70 جیلوں میں اپریل سے دیکھ بھال کا عملہ تعینات کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس پر 58 ملین ین یا قریب نصف ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔

Altenheim in Japan (picture-alliance/dpa)

جاپان میں معمر افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے

جاپانی پولیس کے مطابق سن 2015ء میں مختلف جرائم میں گرفتار ہونے والے یا زیرتفیش افراد میں سے 20 فیصد وہ تھے، جن کی عمریں 65 برس یا زائد کی تھیں۔ سن 2000 میں یہ شرح صرف 5.8 فیصد تھی۔ ان میں سے زیادہ تر جرائم کم سنگین نوعین کے ہوتے ہیں، جن میں چوری چکاری اور چھینی جھپٹی جیسے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے قومی پولیس ایجنسی کے حوالے سے کہا ہے کہ جاپان میں جرائم کی اس شرح میں اضافے کا تعلق ملک میں طویل العمر افراد کی تعداد میں اضافے اور ان درپیش مالی مسائل سے ہے۔

وزارت انصاف کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر جیلوں میں اس بات کا خیال رکھا جاتا رہا ہے کہ قیدی فرار نہ ہو پائیں، مگر اب صورت حال یہ ہے کہ یہ جیلیں اس معاملے کی بجائے دیکھ بھال کے امور پر توجہ دے رہی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ان افراد کو سر چھپانے کو چھت اور وقت پر کھانا دستیاب ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مالی مشکلات کے شکار معمر شہری چھوٹے موٹے جرائم کر کے جیل پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔