1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’اچھا یہی کہ تم چلے جاؤ‘، شامی مہاجر کے ساتھ ہوا کیا؟

محمد حسین جب گزشتہ موسم گرما میں جرمنی پہنچنے کے لیے روانہ ہوا، تو اس کی جیب میں چار ہزار یورو نقد تھے جب کہ دیگر کچھ اشیاء بھی تھیں۔ اس 16 سالہ شامی مہاجر نے ڈی ڈبلیو کو اپنی کہانی سنائی۔

محمد حسین نے اپنے والدین کے ہاں سے جرمنی کے لیے سفر شروع کیا۔ ’’میرا خان دان ایک مدت سے شام سے باہر رہ رہا ہے۔ ان میں سے کچھ ترکی میں ہیں۔ میرے دادا دادی نے مجھ سے کہا کہ تمہارا یہاں کوئی مستقبل نہیں۔ تم یہاں تعلیم حاصل نہیں کر پاؤ گے، تم ترک زبان سے بھی واقف نہیں ہو۔ بہتر یہی ہے کہ تم چلے جاؤ۔‘‘

محمد کی عمر 16 برس ہے اور اصل میں اس کے آباؤ اجداد فلسطینی ہیں۔ محمد کا خان دان اس ہجرت سے قبل بھی ساٹھ سال قبل ایک ہجرت کر چکا ہے، یعنی فلسطین سے شام میں منتقلی۔ اس خان دان نے پہلی عرب اسرائیلی جنگ کے وقت اپنا گھر بار چھوڑ کر اس وقت محفوظ ملک شام میں پناہ لی تھی۔ محمد بھی جنوبی شامی ضلع درعا کے علاقے مزیریب میں پیدا ہوا۔ ’’میرا خان دان بہت بڑا ہے۔ ہمارے گھر میں آٹھ بچے تھے۔ تین لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔ اس خان دان کا بوجھ اٹھانا ایک مشکل کام تھا۔ میرے والد ٹیکسی ڈرائیور تھے۔‘‘

Ute Schaeffer Buchvorstellung Einfach nur weg - die Flucht der Kinder

کم سن شامی مہاجر بچوں کے اس کٹھن سفر کو کتابی شکل بھی دی گئی ہے

مگر اس صورت حال کے باوجود سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑا محمد اسکول جاتا رہا۔ وہ نویں جماعت میں تھا، جب شام میں سن 2012ء میں دیگر بے شمار افراد کی طرح اس خان دان کے لیے رہنا مشکل ہو گیا اور اسے پھر سے ہجرت اختیار کرنا پڑی۔

مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مظاہروں کا آغاز درعا ہی سے ہوا تھا۔ 80 ہزار نفوس پر مشتمل یہ شہر رفتہ رفتہ باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کا مرکز بن گیا۔ میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے اس علاقے میں استعمال ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر ایک کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔

اس صورت حال میں محمد کے خان دان نے ہجرت کی۔ اس کے والدین چھوٹے بچوں کو لے کر لبنان منتقل ہو گئے، جب کہ محمد نے اپنے دادا دادی کے ساتھ شام ہی میں رکنا پسند کیا۔ بعد میں یہ پورا خان دان ترک شہر میرسِن میں آن ملا۔ ’’ترکی میں ہم محفوظ تو تھے، مگر ہمارے مالی مسائل بہت بڑھ گئے تھے۔‘‘

محمد نے بتایا کہ ترکی میں مہاجرین کو کام کرنے کی اجازت نہیں اور وہ مجبوراﹰ کم اجرت پر غیرقانونی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے محمد کے والدین نے اسے ترکی سے یورپ چلے جانے کے لیے کہا، ’’میرے والدین نے مجھے چار ہزار یورو دیتے ہوئے کہا کہ میں جرمنی چلا جاؤں۔‘‘

میرے ماں باپ کا کہنا تھا کہ وہاں چوں کہ دیگر رشتہ دار بھی رہتے ہیں، اس لیے زندگی سہل ہو سکتی ہے۔ محمد کے چچا نے اسمگلروں کی تلاش شروع کی تاکہ وہ یورپ پہنچ سکے اور پھر ربر کی ایک کشتی میں دیگر شامی افراد کے ساتھ محمد یورپ پہنچ گیا۔ ’’اس کشتی میں صرف شامی نہیں تھے بلکہ افریقی بھی موجود تھے۔ یہ کشتی غالباﹰ دو درجن افراد کے لیے بنائی گئی تھی، مگر اس پر 60 افراد سوار کیے گئے تھے۔

’’کشتی اتنی بھری ہوئی تھی کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ کسی طرح کی کوئی حرکت نہ کی جائے۔ میرے دماغ میں صرف یہی آ رہا تھا کہ اللہ کرے گا کہ ہم یورپ پہنچ جائیں گے۔ تین گھنٹے بعد ہم یونانی جزیرے کوس پہنچ گئے اور وہاں ہم نے ایک چرچ میں پناہ لی۔‘‘

محمد نے مزید بتایا، ’’کم عمر افراد کو فوراﹰ گرفتار کر لیا جاتا تھا، اس لیے ان اسمگلروں نے مجھے کہا کہ میں اپنی عمر 18 برس بتاؤں۔ میں نے ان (حکام) کو بتایا کہ میں شامی ہوں۔ ظاہر ہے میں نے اپنے پاس کوئی بھی دستاویز نہیں رکھی تھی، جس سے یہ معلوم ہو کہ میرے خان دان کا تعلق فلسطین سے ہے۔‘‘

محمد نے بتایا کہ وہ شمالی یونان سے مقدونیہ اور پھر سربیا سے آگے بڑھتا ہوا، آسٹریا کے راستے اپنی منزل جرمنی پہنچا۔ اس دوران راستے کی مشکلات اور اسمگلروں کے رویے کا ذکر کرتے کئی بار اس کی آنکھیں پرنم بھی ہو گئیں۔ محمد نے اپنی کہانی میں ہنگری کی سرحد پر پولیس والوں سے ہونے والی اس مڈبھیڑ کا ذکر بھی کیا، جس میں پولیس والوں نے انتہائی غیردوستانہ طریقے سے ان مہاجرین سے برتاؤ روا رکھا تھا۔

تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود محمد ایک گروپ کے ساتھ بالآخر جرمنی پہنچ گیا۔ اس سفر میں محمد کے پاس موجود چار ہزار یورو میں سے زیادہ تر خرچ ہو چکے تھے۔ ’’جب میں جرمنی پہنچا، تو اس وقت میرے پاس صرف سو یورو باقی بچے تھے۔ مگر میرا فیصلہ درست تھا۔ یورپ کا کوئی بھی دوسرا ملک میری منزل نہیں تھا۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں میں زرعی انجینیئرنگ پڑھ سکوں گا۔ یہی میرا ہدف ہے۔‘‘

محمد ان بارہ کم سِن مہاجر بچوں میں سے ایک ہے، جن کے اس کٹھن سفر پر ڈی ڈبلیو کی صحافی اور جرمن لکھاری اُوٹے شیفر نے اپنی ’آئین فاخ نُؤر وَیک‘ یا ’بس یہاں سے چلے جاؤ‘ نامی کتاب بھی تحریر کی ہے۔