1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’اچھا انسان اور اچھا کھلاڑی بنوں گا‘: سلمان بٹ کا عزمِ نو

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے خود پر عائد پابندی ختم ہونے پر کہا ہے کہ انہیں نئی زندگی ملی ہے اور وہ خود کو ایک اچھا انسان اور اچھا کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ ڈی ڈبلیو اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو۔

Pakistan Salman Butt

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ کہتے ہیں کہ جو ہوا وہ کوئی اچھا کام نہ تھا، اس لیے وہ پرستاروں کے جذبات کو سمجھتے ہیں

آئی سی سی نے دو ستمبر سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ باؤلر محمد آصف پر سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی پانچ سالہ پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر دو ہزار دس میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے اور تینوں پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے پانچ سال تک کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگا دی تھی۔ علاوہ ازیں ایک برطانوی عدالت نے ان تینوں مشہور کرکٹرز کو قید کی بھی سزا دی تھی۔

لاہور میں ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ پانچ سال ان کے لیے بہت اندوہ ناک تھے:’’مجھے کرب سے گزرنا پڑا اور یہاں تک کہ جیل بھی جانا پڑا۔ لیکن یہ سب اپنی جگہ سہی البتہ جو میرے والدین اور خاندان پرگزری، اس کا اندازہ اب یہ خبر سننے کے بعد گھر والوں سے مل کر ہو رہا ہے۔‘‘

تیس سالہ سلمان نے بتایا کہ وہ اپنے ماضی کو بھول کر اب صرف مستقبل کا سوچ رہے ہیں۔ سلمان بٹ کے بقول انہیں آئی سی سی کی طرف سے کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنا ان کے لیے ایک لائف لائن ہے اور اگر انہیں دوبارہ کھیلنے کا موقع ملا تو وہ خود کو ایک اچھا انسان اور ایک اچھا کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔

سلمان بٹ تینتیس ٹیسٹ اور اٹھہتر ایک روزہ بین لاقوامی میچوں کے علاوہ پاکستان کی جانب سے چوبیس ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیل چکے ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ انہیں اگلے ماہ راولپنڈی میں ہونے والے قومی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ میں حصہ لینے والی ان کے آبائی شہر لاہور کی ٹیم میں شامل کیا جائے گا اور ذرائع کے مطابق لاہور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اس سلسلے میں سابق کپتان سے رابطہ بھی کیا ہے۔

اس بارے میں سلمان بٹ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹیم میں شمولیت کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں البتہ انہوں نے بیتے پانچ برسوں میں کھیلنے کی سرکاری پابندی کے باوجود محنت سے کبھی جی نہیں چرایا۔ سلمان کے مطابق پانچ برسوں میں اُن پر آئی سی سی اور پی سی بی کے زیر اہتمام ہونے والی ہر طرح کی کرکٹ میں شرکت پر پابندی تھی، اس لیے وہ نجی ٹریننگ کرتے رہے:’’میں نے ان پانچ برسوں میں ہر روز محنت کی، صرف بارش کے دنوں میں ایسا نہ کر سکا کیونکہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ کی اجازت نہ تھی۔ فزیکل فٹنس کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

(بائیں سے دائیں) سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر دو ہزار دس میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے

سلمان بٹ کے مطابق پابندی ختم ہونے کے بعد حوصلہ افزائی کرنے والے پرستاروں کے وہ بے حد ممنون ہیں اور جنہوں نے انہیں برا بھلا کہا وہ ان کے جذبات کو بھی سمجھتے ہیں اور قدرکرتے ہیں کیونکہ جو ہوا وہ کوئی اچھا کام نہ تھا۔

ساتھی کرکٹرز کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ سلمان نے کہا کہ پابندی کےعرصے میں ان کا ایک دو کے علاوہ باقی کسی کھلاڑی سے کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا:’’اب کئی نئے کھلاڑی بھی سامنے آ چکے ہیں، اس لیے مَیں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ آنے والے دنوں میں میرے ساتھ ان کا رویہ کیسا ہو گا۔‘‘