1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اپوزیشن کو واضح اکثریت مل گئی، تھائی الیکشن کمیشن

تھائی لینڈ میں اتوار کے پارلیمانی انتخابات میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پیر کو کہا ہے کہ اپوزیشن نے ایوانِ زیریں کی پانچ سو میں سے اکثریتی دو سو پینسٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

default

تھائی لینڈ کے وزیر اعظم ابھسیت ویجا جیوا پہلے ہی شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق وہ ایک سو انسٹھ نشستوں پر کامیاب رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ٹرن آؤٹ 2007ء کے انتخابات جتنا، یعنی تقریباﹰ پچہتر فیصد رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن انتخابی بے ضابطگیوں کی بعض شکایات کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شکایات درست ثابت ہونے پر بعض امیدواروں کو ’ریڈ کارڈز‘ مل سکتے ہیں اور انہیں نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو اپوزیشن پُوئیا تھائی پارٹی کی اکثریت پر بھی فرق پڑ سکتا ہے۔

اتوار کے انتخابات کے نتائج کو جلاوطن رہنما شناواترا کے حامیوں کے لیے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب تھائی لینڈ کے وزیر دفاع Prawit Wongsuwon نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ فوج نے تھاکسن شناواترا کے اتحادیوں کی فتح تسلیم کر لی ہے۔ شناواترا کو 2006ء میں فوج نے اقتدار سے ہٹا دیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک میں طویل سیاسی بحران رہا جبکہ پرتشدد مظاہرے بھی ہوتے رہے۔

Thailand Wahlen Puea Thai Yingluck Shinawatra Rothemden Flash-Galerie

تھاکسن شناواترا کی چھوٹی بہن ینگ لُک شناواترا کے لیے تھائی لینڈ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا موقع یقینی قرار دیا جا رہا ہے

وزیر دفاع کا کہنا ہے: ’’میں نے عسکری رہنماؤں سے بات کی ہے۔ فوج مداخلت نہیں کرے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’عوام نے کھل کر اظہار رائے کیا ہے، اس لیے فوج کچھ نہیں کر سکتی۔‘‘

تھائی لینڈ میں فوج کو ایک مستقل وائلڈ کارڈ قرار دیا جاتا ہے اور وہاں جتنے انتخابات ہو چکے ہیں، تقریباﹰ اتنی ہی مرتبہ فوج حکومتیں گرا چکی ہے۔ اے ایف پی نے سیاسی تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کے انتخابات میں قریبی نتائج سے فوج کو مداخلت کا موقع مل سکتا تھا جبکہ مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا تھا۔ تاہم اپوزیشن کی واضح جیت سے فوج کے لیے ایسی کوئی بھی کارروائی مشکل ہو گئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس