1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اپنے ہی فوجیوں پر حملے کے شبے میں امریکی فوجی گرفتار

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک مسلمان امریکی فوجی کو حراست میں لیے لیا گیا ہے۔ اس پر سکیورٹی حکام کو شبہ ہے کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

default

گرفتار ہونے والا فوجی اکیس سالہ ناصر جیسن عبدو ہے۔ اس وقت اسے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر کیلین کی سٹی جیل میں رکھا گیا ہے۔ کیلین نامی شہر امریکی فوجی چھاؤنی فورٹ ہڈ کے نواح میں واقع ہے۔ فورٹ ہڈ میں نومبر سن 2009 میں میجر ندال ملک حسن نے بلا اشتعال فائرنگ کر کے تیرہ افراد کو ہلاک اور دیگر بتیس کو زخمی کردیا تھا۔ میجر حسن اس وقت اپنے مقدمے کے شروع ہونے کا منتظر ہے۔ اس کا کورٹ مارشل اگلے سال مارچ میں کیا جائے گا۔

کیلین شہر کی پولیس کے سربراہ ڈینس بالڈوین کے مطابق عبدو کا ممکنہ نشانہ فوجی ملازمین تھے۔ اس کی رہائش گاہ سے بم بنانے میں استعمال ہونے والا مواد تلاشی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ بالڈوین کے مطابق گرفتارہونے والا فوجی ایک دہشت گردانہ پلان میں مصروف تھا۔ پولیس کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ عبدو فورٹ ہڈ یا کیلین شہر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ کیلین شہر کی پولیس کے سربراہ نے گرفتار ہونے والے فوجی کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے جس جگہ ہونا چاہیے تھا اب وہ وہاں پہنچ گیا ہے۔

NO FLASH Texas Militär

ٹیکساس میں امریکی فوجی بیرون ملک مشن کے لیے روانہ ہوتے وقت

ناصر جیسن عبدو امریکی شہر ڈیلاس کا رہنے والا ہے۔ وہ چار جولائی سے اپنے بیس فورٹ کیمبل، کنٹکی سے بغیر سرکاری چھٹی کے غائب تھا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوجی ملازمین پر حملے کے ارادے کا اعتراف کیا ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق ایک شہری کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ عبدو کے پاس آتشین اسلحہ اور بغیر دھوئیں کے بارودی مواد ہے۔ عبدو نے کیلین شہر میں واقع اسلحےکی ایک دکان گنز گلور (Guns Galore) سے بارودی مواد خریدا تھا۔ اس خریداری کی تصدیق دکان کے عملے کے ایک رکن گریگ ایبرٹ نے کردی ہے۔گریگ ایبرٹ نے ہی عبدو کی خریداری کے بعد پولیس کو مطلع کیا تھا۔ اس کی انفارمیشن پر پولیس نے امریکی فوجی ناصر جیسن عبدو کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا۔ وہ ایک موٹل میں قیام پذیر تھا۔

امریکی فوجی عبدو کے خلاف چائلڈ پورنو گرافی کے حوالے سے بھی وارنٹ نکل چکا ہے۔ عبدو نے سن 2010 میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تناظر میں امریکی فوج میں اپنی ملازمت کو اپنے ضمیر پر بوجھ قرار دینے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ اِس درخواست میں اس نے واضح کیا تھا کہ فوجی ملازمت کے دوران فرائض کی انجام دہی میں اسے بحیثیت مسلمان ہونے کے ضمیر کی خلش کا سامنا رہتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM