1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اپنے ہیرو وسیم اکرم کی طرح نام کمانا ہے، رومان کا ارمان

آئی سی سی عالمی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل کیے جانے والے فاسٹ بولر رومان رئیس کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں وسیم اکرم سے تربیت پانے کے بعد وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے تیار ہیں۔

Pakistan Cricket Rumman Raees

رومان کہتے ہیں کہ انہیں وسیم اکرم کو دیکھ کر بچپن میں ہی فاسٹ بولنگ کا شوق پیدا ہو گیا تھا

چوبی سالہ رومان رئیس بائیں ہاتھ سے تیز بولنگ کرتے ہیں اور وہ آئی سی سی عالمی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں محمد عامر، محمد عرفان، وہاب ریاض کے ساتھ پاکستان کے ’آل لیفٹ آرم سیم اٹیک‘ کا حصہ ہوں گے۔

شارجہ میں اسلام آباد یونائٹڈ اور لاہور قلندرز کے میچ کے بعد ڈوئچے ویلے کو انٹرویو میں رومان رئیس کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک ٹوئنٹی ٹوئنٹی اور انگلینڈ کے خلاف اے سیریز میں عمدہ بولنگ کے بعد انہیں پاکستانی ٹیم میں شمولیت کا یقین تھا، اس لیے جب انہیں ٹیم میں منتخب کیے جانے کی خبر ملی تو انہیں زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔

رومان نے کہا کہ میرا نام جنوری میں نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے بھی ٹیم میں شامل تھا لیکن بیماری کی وجہ سے میں وہاں نہ جا سکا۔

رومان نے بتایا کہ انہیں بچپن میں وسیم اکرم کو دیکھ فاسٹ بولنگ کا شوق پیدا ہوا، ’’ وسیم بھائی سے ملنے کی ہمیشہ سے خواہش تھی لیکن جب پی ایس ایل کے لیے میرا اسلام آباد کی ٹیم میں انتخاب خود یونائٹڈ کے کوچ وسیم اکرم نے کیا تو اس وقت میری خوشی بیان سے باہر تھی۔

پی ایس ایل میں وسیم بھائی کے ساتھ ڈریسنگ روم میں اکھٹا بیٹھنا میرے لیے سپنوں کی تعبیر ہے۔ وسیم اکرم سے مجھے دس روز میں ہی بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اب میں ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں کوہلی اور روہت جیسے بلے بازوں کا مقابلہ کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

Pakistan Mohammad Nawaz Cricket Team

محمد نواز نے اپنی لیفٹ آرم اسپن کے ذریعے پی ایس ایل میں تاحال سب سے زیادہ آٹھ وکٹیں لی ہیں

ٹیپ بال اور واٹسن

رومان نے بتایا کہ میں نے اپنی کرکٹ ٹیپ بال سے شروع کی پھر سابق پاکستانی کرکٹر منصور اختر انہیں یوبی ایل اکیڈمی اور اعظم خان کلب میں لے گئے، ’’ میں دو ہزار دس سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہا ہوں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں رومان نے بتایا، ’’شین واٹسن اور مصباح کی کپتانی میں بولنگ کرکے وہ ایک نڈر بولر بن چکے ہیں۔ ڈومیسٹک میچوں میں مار پڑنے پر ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں لیکن واٹسن اور مصباح نے پی ایس ایل میں یہ گھبراہٹ دور کر دی ہے۔‘‘

بولنگ ورائٹی کے کرکٹ پنڈت معترف

چوبیس سالہ رومان رئیس نے اپنے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کیرئیر کے چالیس میچوں میں صرف پینتالیس وکٹیں لی ہیں لیکن آخری اوورز میں اپنی نپی تلی بولنگ اور گیند کی رفتار میں کمی بیشی پر عبور کی خوبی نے ان کے مداحوں میں اضافہ کیا ہے۔

سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کہتے ہیں کہ رومان کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت ایک اچھا فیصلہ ہے، ’’ اس کے پاس بولنگ میں ورائٹی اور اچھا کنٹرول ہے۔ رومان کے پاس سلو باونسر اور تین طرح کی سلو بال کرنے کی قابلیت ہے جس کی وجہ سے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں اسے سمجھنے میں حریف بیٹسمینوں کو مشکل ہوگی۔

سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر اور اسلام آباد یونائٹڈ کے کوچ ڈین جونز کہتے ہیں کہ رومان رئیس بہت با صلاحیت بولر ہیں۔ جونز کے بقول انہیں پاکستان کے پاس لیفٹ آرم پیسرز کی بہتات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

میں بیٹنگ آل راونڈر ہوں: محمد نواز

پاکستان ٹیم میں شامل کیے جانے والے محمد نواز نے اپنی لیفٹ آرم اسپن کے ذریعے پی ایس ایل میں تاحال سب سے زیادہ آٹھ وکٹیں لی ہیں۔ تاہم نواز کہتے ہیں کہ بیٹنگ ان کی پہلی محبت ہے اور انہوں نے حالیہ ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ میں نیشنل بینک کی طرف سے کراچی وائٹس کے خلاف ریکارڈ ایک سو ستاسی رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

نواز نے جمعرات کو دبئی میں ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ خود کو بیٹنگ آل راونڈر سمجھتے ہیں مگر حال ہی میں انگلینڈ اے کے خلاف سیریز اور پی ایس ایل میں ان کی بولنگ زیادہ کارگر رہی۔ نواز کے مطابق وہ بنگلہ دیش کے شکیب الحسن کی طرح کے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں، جو آئی سی سی عالمی رینکنگ میں اس وقت نمبر ایک آل راون کرکٹر ہیں۔

Pakistan Cricket Wasim Akram

وسیم اکرم پی ایس ایل کی ٹیم اسلام آباد یونائٹڈ کے ساتھ وابستہ ہیں

رچرڈز کے ساتھ گزرے لمحات

محمد نواز کہتے ہیں کہ انہیں ویوین رچرڈز کے ساتھ پی ایس ایل میں گزرا وقت ہمیشہ یاد رہے گا۔ رچرڈز نواز کی پی ایس ایل ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے گرو ہیں۔ نواز کہتے ہیں کہ رچرڈز کے ساتھ ڈریسنگ روم شئیر کرکے اعتماد بڑھا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

نواز نے کہا کہ ویسے اپنی بولنگ کے سلسلے میں ذوالفقار بابر سے نصحیت لیتے ہیں جو خود بھی کوئٹہ کی ٹیم میں کھیل رہے ہیں۔

قبل از وقت سلیکشن

بازید خان نے البتہ محمد نواز کی پاکستانی ٹیم میں سلیکشن کو قبل از وقت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نوجوان کھلاڑی کو براہ راست عالمی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں شامل کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔

بازید نے کہا کہ بہتر ہوتا نواز کو پہلے کوئی انٹرنیشنل سیریز کھلا لی جاتی۔ تاہم بازید نے کہا کہ اب نواز کو مکمل موقع ملنا چاہیے کہ ورلڈ کپ کے بعد اسے ٹیم سے ڈراپ نہ کیا جائے۔