1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اپنے گھر سے ڈر لگتا ہے: متاثرہ محمد لطیف کی کہانی

جنوبی پنجاب کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر کوٹ ادو کے ریلوے اسٹیشن کی قریبی بستی ضیا کالونی میں اب بھی گھروں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ پانی میں ڈوبے ایک گھر کا مکین محمد لطیف گھر کے سامنے ریل کی پٹری پر مقیم ہے۔

default

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد لطیف نے بتایا کہ سیلابی پانی میں سانپ اور بچھو بھی ہیں۔ اس کے گھر کے قریبپانی میں پڑی ایک مردہ بھینس کی وجہ سے فضا متعفن ہو چکی ہے۔

محمد لطیف اس گھر میں پچھلے تیس سال میں مقیم ہے ۔ اس گھر سے اس کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں مگر اب اسے اس سے خوف آتا ہے۔ اسے یہ ڈر بھی لگا رہتا ہے کہ پانی سے کمزور ہو جانے والی دیواریں کہیں گر ہی نہ جائیں۔ وہ اپنے بچوں کو اپنے رشتہ داروں کے ہاں چھوڑ آیا ہے۔

Pakistan Hochwasser Muhammad Latif

جنوبی پنجاب کا رہائشی محمد لطیف اپنی کہانی سناتے ہوئے

بجلی کے مقامی کارخانے میں کام کرنے والے سینتالیس سالہ محمد لطیف کے مطابق سیلاب آنے کا منظر اس کے لئے بڑا ہی تکلیف دہ تھا:’’ہر طرف افرا تفری تھی ، لوگ بھاگ رہے تھے، ہم نے سیلابی پانی میں لاشیں تیرتے دیکھیں۔‘‘

آنکھوں میں آنسو لئے محمد لطیف سیلاب کے ابتدائی لمحات کو یاد کر رہا تھا:’’پانی کا ایک بڑا ریلا آیا۔ اس میں ایک آدمی بہہ گیا۔ اس کا داماد بچانے کو آیا اور وہ بھی بہہ گیا۔ اسےبچانے اس کا کزن آگے بڑھا، اسے بھی سیلابی ریلے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان سب کی لاشیں ہمیں تین دن بعد مل سکیں۔‘‘

محمد لطیف کے بقول اس سیلابی ریلے کے کئی روز بعد بھی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی ہے۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ لوگ گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ دن دہاڑے مکینوں سے خالی گھروں سے سامان لوٹا جا رہا ہے۔ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ دوائیں اور غذائیں دستیاب نہیں ہیں۔ اور تو اور پیسے دے کر بھی کھانے پینے کی کوئی چیز کہیں سے نہیں ملتی۔ کل ایک بیکری کھلی تھی، اس کا سارا سامان تھوڑی ہی دیر میں مہنگے داموں بک گیا۔ لوگ بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں اور مرنے والوں کو دفنانے کیلئے بھی جگہ میسر نہیں ہے۔ مردوں کو دفنانے کیلئے دوسرے شہر لے جایا جا رہا ہے۔

Pakistan Überschwemmung Flut

مردہ جانوں کی وجہ سے متعدی بیماریوں کے شدید خطرات ہیں

محمد لطیف کو دکھ ہے کہ اس کے منتخب نمائندوں نے مشکل کی اس گھڑی میں لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے:’’چند دن پہلے یہاں شہباز شریف آئے تھے، اس دن یہاں امداد بھی آئی تھی۔ اس کے بعد سے یہاں کوئی نہیں آیا۔ کئی فٹ پانی میں چل کر دور دراز کی بستیوں میں پھنسے ہوئے غریبوں تک امداد پہنچانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ پہلے خدشہ تھا، اب مجھے یقین ہے کہ کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا۔‘‘

محمد لطیف کی یہ باتیں اِس شعر کی یاد دلا رہی تھیں

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا

لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

رپورٹ: تنویر شہزاد، کوٹ ادو، ضلع مظفر گڑھ، جنوبی پنجاب

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس