1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

اپنے حق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں، آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ہر سال 10 دسمبر کو منائے جانے والے اس دن کا اس برس عنوان ہے:’’کسی نہ کسی کے حقوق کے لیے آج اٹھ کھڑے ہوں‘‘۔

Pakistan Pressebilder der Menschenrechtskommision Pakistans (HRCP)

پاکستانی خواتین ’خواتین کے عالمی دن‘ کے موقع پر اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کر رہی ہیں (فائل فوٹو)

دنیا بھر میں بنیادی انسانی حقوق کا مطلب شہری و سیاسی حقوق یعنی زندگی اور آزادی کے حق کو گردانا جاتا ہے۔ ان ہی میں جنسی مساوات، آزادیِٴ اظہارِ رائے، قانونی تحفظ، آزادیِٴ مذہب اور تنظیمی آزادی بھی شامل ہے تاہم پاکستان میں ان حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ پاکستان کی جانب سے اس برس جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں بہتری دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ سالانہ رپورٹ میں امن و امان کی صورت حال، خواتین، بچوں، قیدیوں کے حقوق، مذہبی، سیاسی اور اظہار کی آزادی، تعلیم، صحت اور صاف ماحول اور چھت کی فراہمی سے متعلق شہریوں کے حقوق اور پناہ گزینوں کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں آج کل پاکستان میں اقلیتوں پر حملوں اور فرقہ وارانہ تشدد کو بڑے مسائل قرار دیا گیا ہے، جن پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی جان کے تحفظ میں بھی حکومت ناکام نظر آئی اور یہی وجہ ہے کہ توہین مذہب کے متنازعہ قانون کے تحت 19 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی اور کئی سو افراد اسی قانون کے تحت قید میں اپنے انجام کے منتظر ہیں جبکہ دیکھا یہ گیا کہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی، جنہیں ان کے مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر یا ذاتی دشمنی کے نتیجے میں جھوٹے الزامات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

Pakistan Pressebilder der Menschenrechtskommision Pakistans (HRCP)

’’یہاں نہ جبری گمشدگی کے واقعات کی روک تھام کی گئی ہے اور نہ ہی زبردستی اٹھائے جانے والے افراد کے بارے میں کوئی اطلاع دی جاتی ہے"

اسی طرح آزادیٴ رائے اور میڈیا پر بھی ایسے قوانین کے تحت پابندیاں لگائی گئیں۔ دوسری جانب صوبہٴ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سال 2016 کے گیارہ ماہ کے دوران کارو کاری، خودکشی اور غیرت کے نام پر قتل کے مختلف واقعات میں 74 خواتین کی ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں جبکہ سال 2009 سے 2016 تک تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد 700 سے زائد ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے ترجمان زمان خان کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال پر جتنا بھی اظہار افسوس کیا جائے، کم ہے، ’’یہاں نہ جبری گمشدگی کے واقعات کی روک تھام کی گئی ہے اور نہ ہی زبردستی اٹھائے جانے والے افراد کے بارے میں کوئی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ پھر خواتین کی صورتحال بھی ٹھیک نہیں ہے۔ خواتین کے خلاف بھی بد قسمتی سے تشدد دن بدن بڑھ رہا ہے اور سب سے آخر میں اقلیتوں کی صورتحال بھی بہتری کی طرف جاتی نظر نہیں آتی۔ یہ وہ چار گروہ ہیں، جن کے حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ملک میں دیکھنے میں آ رہی ہے‘‘۔

Pakistan Pressebilder der Menschenrechtskommision Pakistans (HRCP)

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منعقدہ ایک ریلی کے دوران خواتین جبری گمشدیوں کے خلاف احتجاجی بینرز اٹھائے ہوئے ہیں

خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے حوالے سے عورت فاؤنڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر، مہناز رحمان کہتی ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو ہمیں بہت سے متضاد رجحانات نظر آتے ہیں، ’’ایک طرٖف تو ہماری خواتین اسمبلیوں میں بھی جا رہی ہیں، عوامی نمائندگی کے اداروں میں بھی جا رہی ہیں لیکن دوسری طرف دیہی علاقوں میں وہ کارو کاری میں ماری بھی جا رہی ہیں۔ بے شک ہمارا قانونی نظام موجود ہے اور ہماری عدالتیں بہت فعال ہیں، اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ساتھ ہی ایک اور متوازی نظام بھی ساتھ چل رہا ہے، جس کے تحت جرگے عورتوں کے خلاف عجیب و غریب اور ظالمانہ فیصلے دیتے نظر آتے ہیں۔ گو کہ عدلیہ نے ان جرگوں کو غیر قانونی قرار دیا ہوا ہے، اس کے باوجود جرگے اب بھی منعقد ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب شہروں میں ہم دیکھتے ہیں تو تعلیمی شعبے میں لڑکیاں بہت آگے نظر آتی ہیں۔ لیکن پھر یہی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں شادی کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے نہ صرف لڑکیوں بلکہ ملک کی غریب عوام کی جانب بھی ایک منفی رجحان ہے۔‘‘

مہناز رحمان کہتی ہیں، ’’ہم ایک نہایت متضاد معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں قبائلی روایات بھی چل رہی ہیں، جاگیردارانہ روایات بھی چل رہی ہیں جبکہ بڑے شہروں میں ان سے الگ ہی روایات نظر آ رہی ہیں۔ ان سب کے باوجود لڑکیوں کو جب اور جہاں مواقع ملے ہیں، انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے اور بہت ترقی بھی کی ہے، ان شعبوں میں آئی ہیں، جن میں تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ خواتین نظر آئیں گی یعنی ایک طرف ہم حقوق کے حوالے سے بہت روشن تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں اور دوسری طرف بہت تاریک بھی۔ نہ ہم بالکل ہی کھائی میں گرے ہوئے ہیں اور نہ ہی ہم آسمان پر پہنچے ہوئے ہیں۔ ان سب میں سیاسی منشا اور عوامی آگاہی کی بہت ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرے گا، جب تک یہاں خواتین کو برابری کے حقوق نہیں دیے جائیں گے۔‘‘

Pakistan Pressebilder der Menschenrechtskommision Pakistans (HRCP)

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے اس برس جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے

مہناز رحمان کے مطابق یہ بہت اچھی بات ہے کہ قوانین بن رہے ہیں کیونکہ لوگوں میں یہ سمجھ آتی ہے کہ اگر قانون بنا ہے تو اس کی خلاف ورزی پر سزا ملے گی، ’’لیکن اس پر اگر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ قانون میں اگر کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے یا کوئی نقص رہ جاتا ہے تواس کا فائدہ مجرم کو ہوتا ہے، اس لیے جو بھی قانون سازی ہو وہ نہایت مضبوط ہو۔ لیکن ملک میں اب یہ رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہر ذمہ داری عدلیہ پر ڈال دی گئی ہے۔ حالانکہ ہر ادارے کی اپنی اہمیت اور ذمہ داریاں ہیں۔ ہمیں ساری ذمہ داری عدلیہ اور قانون پر نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ بہتری اسی وقت آئے گی اگر عوامی سطح پر آگاہی ہو اور عوام، سول سوسائٹی اور ادارے مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق ادا کرنے میں ہی معاشرے کی بہتری ہے۔‘‘