1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر انصاف کی جنگ لڑنے والی خواتین

کائنات سومرو کی عمر تیرہ برس تھی، جب وہ اپنی نومولود بھتیجی کے لیے ایک کھلونا خریدنے جا رہی تھی۔ تین مردوں نے اسے اغوا کیا، کئی دن ایک نامعلوم مقام پر قید رکھا اور متعدد مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

Pakistan Kainaat Soomro Vergewaltigungsopfer

عمومی طور پر صحافتی ذمہ داری کے تحت میڈیا پر جنسی زیادتی کے متاثرین کی شکل نہیں دکھائی جاتی لیکن کائنات سومرو اپنا کیس لے کر عوامی سطح اور سڑکوں پر آ چکی ہیں اور ان کی تصاویر ان کی اجازت سے شائع کی جا رہی ہیں

کائنات سومرو اس واقعے کے آٹھ برس بعد بھی انصاف کے لیے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ جب اس درد ناک واقعے کو یاد کرتی ہے تو اس کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے لیکن انصاف کے لیے اس کی جنگ غیر متزلزل ہے۔ وہ جرگے کے روایتی فیصلے کو مسترد کر چکی ہے۔ عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہے اور انصاف کے لیے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی شریک ہو رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ملزموں کو طاقتور سیاستدانوں اور جاگیرداروں کی حمایت حاصل ہے۔

عمومی طور پر صحافتی ذمہ داری کے تحت میڈیا پر جنسی زیادتی کے متاثرین کی شکل نہیں دکھائی جاتی لیکن کائنات سومرو اپنا کیس لے کر عوامی سطح اور سڑکوں پر آ چکی ہیں اور ان کی تصاویر ان کی اجازت سے شائع کی جا رہی ہیں۔ کائنات کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑنے کی راہ ملالہ یوسف زئی اور اس کی بہادری نے دکھائی ہے لیکن کائنات سومرو کی اس بہادری کی قیمت اس کے خاندان کو اٹھانا پڑ رہی ہے۔

Pakistan Azra Zwangsheirat Opfer

عذرا کی عمر اٹھارہ برس تھی، جب اس کی شادی پانچ لاکھ روپے کے عوض ایک بوڑھے شخص کے ساتھ کر دی گئی

اس کی ایک بہن کی شادی نہیں ہو رہی جبکہ بڑی بہن کو طلاق مل چکی ہے۔ اس کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ کائنات کی وجہ سے انہیں شرمندگی کا سامنا تھا۔ کائنات کے بھائی کو سن دو ہزار دس میں اس وقت گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا، جب اس نے مبینہ طور پر خاموشی اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان میں خواتین کو جنسی طور پر تشدد کا نشانہ بنانا یا ہراساں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ برس 423 خواتین کو ریپ جبکہ 304 کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس روزانہ ایک خاتون کو غیرت کی نام پر قتل کیا گیا۔

مشکلات کی شکار خواتین کے لیے کراچی میں ایک ویمن شیلٹر ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس گھر کی حفاظت کے لیے مسلح گارڈ تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اس وقت وہاں ظلم و تشدد کی شکار چالیس خواتین موجود ہیں۔ ان میں سے کئی نے اپنے شوہروں کی مار پیٹ سے تنگ آ کر وہاں پناہ لے رکھی ہے، کئی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ کئی کا پیچھا اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنے کی خواہاں تھیں۔

عذرا کی عمر اٹھارہ برس تھی، جب اس کی شادی پانچ لاکھ روپے کے عوض ایک بوڑھے شخص کے ساتھ کر دی گئی۔ اس شخص نے بعد ازاں عذرا کو آگے اجنبیوں کے سامنے پیش کر دیا۔ موقع پاتے ہی عذرا بھاگنے میں کامیاب رہی اور اب طلاق حاصل کرنے کے لیے قانونی مدد کی تلاش میں ہے۔ یہ اس قدر خوفزدہ ہے کہ شیلٹر ہاؤس سے باہر جانے سے بھی ڈرتی ہے۔

سدرہ کنول اپنے خاوند کے تشدد سے تنگ آ کر واپس اپنی ماں کے گھر آ گئی۔ وہاں ایک دوسرے آدمی نے شادی کا پیغام بھیجا۔ لڑکی والوں کی طرف سے انکار کے بعد اس نے سدرہ کو تنگ اور ہراساں کرنا شروع کر دیا اور یہ دھمکی بھی دی کہ اگر وہ اس کی نہ ہوئی تو وہ اسے کسی اور کی بھی نہیں ہونے دے گا۔ اس کے چند ماہ بعد ہی اس نے سدرہ کنول پر تیزاب پھینک دیا۔

Pakistan Sidra Kamwal Säureangriff Opfer

سدرہ ہسپتال گئی تو تین دن بعد ہی اسے گھر واپس بھیج دیا گیا، وہ غریب تھی اور اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے

سدرہ ہسپتال گئی تو تین دن بعد ہی اسے گھر واپس بھیج دیا گیا، وہ غریب تھی اور اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ یہ لمحات سدرہ کے لیے آسان نہیں تھے۔ جلے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اس کا چار سالہ بچہ بھی اس سے ڈرنے لگا تھا۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں خود اپنا چہرہ دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتی تھی۔ میں ہر وقت اپنے ناک اور چہرے پر سکارف رکھتی تھی اور تکلیف ناقابل برداشت تھی۔‘‘

اس کے بات سدرہ نے عدالت سے رجوع کیا، جہاں اس کا رابطہ انسانی حقوق کے کارکنوں سے ہوا اور اس کے بعد اس کا علاج شروع کر دیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس 55 پاکستانی خواتین پر تیزاب پھینکا گیا اور آج تک صرف سترہ ملزموں کا گرفتار کیا گیا ہے۔

کائنات اور عذرا کے برعکس سدرہ پر تیزاب پھینکنے والا حوالات میں بند ہے۔ سدرہ کے گھر والے اس سے ناراض ہو چکے ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے ان کی عزت میں فرق آیا ہے۔ سدرہ اس شیلٹر ہاؤس میں رہتے ہوئے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔