1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اپا شیرپا نے 21 ویں مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا

کسی بھی کوہ پیما کے لیے ایک مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ نیپالی باشندے اپا شیرپا نے 11 مئی کو21 ویں مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر کے اپنے ہی ریکارڈ کو مزید بہتر کر لیا ہے۔

default

اپا شیرپا کا تعلق ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب واقع ایک گاؤں سے ہے

دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ8 ہزار 848 میٹر بلند ہے۔ یہ چین اور نیپال کی سرحد پر واقع ہے۔ نیپالی کوہ پیما اپا شیرپا کا تعلق بھی اس چوٹی کے قریب تھامے نامی ایک گاؤں سے ہے۔ انہوں نے 1990ء میں پہلی مرتبہ اس چوٹی کو سر کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس کے بعد سے شیرپا نے ہر سال اس چوٹی کو سرکرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تاہم اس دوران موسم کی خرابی اور نجی وجوہات کی بناء پر انہوں وقفہ بھی لیا لیکن پھر ایک ہی سال میں دو مرتبہ یہ چوٹی سر کر کے حساب برابر کر دیا، جیسا کہ 1992ء میں وہ دو مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ کو زیرکرنے میں کامیاب ہوئے۔

Himalaya

شیرپا نے 1990ء میں پہلی مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا تھا

ہر سال دنیا کی اس سب سے اونچی چوٹی کی صفائی کی جاتی ہے کیونکہ مہم جو اسے سر کرنے کی کوششوں کے دوران چوٹی کے مختلف حصوں میں کوڑا کرکٹ چھوڑ آتے ہیں۔ اسی وجہ سے اپا شیرپا نے صرف اس چوٹی کو ہی سر نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی اس چوٹی کی صفائی بھی کی ہے۔51 سالہ کوہ پیما گزشتہ تین برسوں سے ایسا کر رہے ہیں۔

ایک اندازہ ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم واپسی پر تقریباً پانچ ہزار کلوگرام کوڑا بھی ساتھ لائےگی۔ اس میں ان کوہ پیماؤں کی لاشیں بھی شامل ہوں گی، جو یہ معرکہ سر انجام دینے کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ان کے ساتھیوں کو ان کے مردہ جسم وہیں چھوڑ کر آنا پڑے تھے۔ نیپال کی وزارت سیاحت نے تصدیق کر دی ہے کہ شیرپا چار غیر ملکیوں اور چھ گائیڈز کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے ہی ریکارڈ کو مزید بہتر کر دیا ہے۔ اپا شیرپا اس کے علاوہ بھی ماؤنٹ ایورسٹ پر پہنچنے کی کئی ناکام کوششیں کر چکے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس