1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹھارہویں ترمیم اور این او آر کیسز: حکومت مخالف وکلا کی تنقید

حکومت کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کے خلاف اور این آر او فیصلے پر نظرثانی کے مقدموں میں عدالت عظمیٰ سے مزید مہلت کی درخواست کو حکومتی موقف کے مخالف وکلاءنے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

default

سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ کے مطابق تاریخی اہمیت کے حامل ان مقدمات میں حکومتی غیر سنجیدگی نمایاں ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کی خالق آئینی کمیٹی کی کارروائی اور پارلیمانی بحث کا ریکارڈ طلب کئے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس سے مقدمے کی کارروائی میں شفافیت آئے گی

سلمان راجہ نے کہا: ” یہ ایک عام بات ہے کہ جب کسی قانون پر شک ہو اور قانون بنانے والے کا مقصد معلوم کرنا ہو تو اس کےلئے اس بارے میں کی جانے والی آئینی بحث کو دیکھا جا سکتا ہے اور ایسا پہلی بار نہیں بلکہ ماضی میں بھی بہت سے مقدمات میں ایسا کیا جا چکا ہے۔“

ادھراٹھارہویں ترمیم کے خلاف ایک درخواست گزار ندیم احمد کے وکیل بیرسٹر اکرم شیخ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود وہ عدالت عظمیٰ کے وقار کی خاطر کیس کی اگلی سماعت کی تاریخ پر معترض نہیں۔

Pakistan Oberster Gerichtshof in Islamabad

بیرسڑاکرم شیخ کی خواہش ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی جلد ہو

انہوں نے کہا : ” پہلے در خواست گزارکے وکیل کے طور پر میری یہ خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی، وفاق پاکستان اور تمام متعلقہ افراد پوری دلجمعی کے ساتھ مقدمے کی مخالفت اور پیروی کریں اور بعد میں بجائے کوئی اعتراض پیش کرنے کے دل و جان سے عدالتی فیصلے کو تسلیم کریں۔‘‘

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسڑاکرم شیخ نے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی حکومت کو جواب داخل کر انے کے لئے پندرہ دن کی مہلت دی تھی جس پر عمل نہیں ہوا۔ اکرم شیخ کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی جلد ہو لیکن اس کے با وجود انہیں عدالت عظمٰی کی جانب سے حکومت کو سات دن کی مزیدمہلت دینے پر اعتراض نہیں تاکہ جب بھی اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ ہو تو وہ حکومت سمیت تمام فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔

عدالت عظمیٰ پر این آر او پر نظر ثانی کی درخواستوں پر بھی سماعت حکومتی وکیل کی درخواست کے سبب 7 جون تک ملتوی کرنا پڑی۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار سرور باری کا کہنا تھا: ” ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت این آر او اور اس سے متعلق چیزوں کو طول دینے کےلئے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے لیکن یہ بات بھی مصدق ہے کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ نہ تو 31 مئی دور ہے اور نہ ہی 7 جون .... اس وقت عدلیہ اپنا کام احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے اور پاکستانی میڈیا کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔“

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM