1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اٹلی کے سکولوں میں صلیب کی علامت، مسئلہ حل

ویٹی کن سٹی نے یورپین کورٹ برائے انسانی حقوق کے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے ، جس میں اٹلی کے سکولوں میں صلیب کی علامات آویزاں کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

default

ویٹی کن کے ترجمان نےعدالت کے فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے کہا،’ یہ بہت اہم اور تاریخی فیصلہ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ویٹی کن اس عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ اس سے قبل یورپین کورٹ برائےانسانی حقوق نے کہا تھا کہ اٹلی کے سکولوں میں صلیب آویزاں کرنے سے غیر کتھولک بچوں کے انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہوتی، اس لیے ان علامات کے آویزاں کرنے پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔

اطالوی وزیرخارجہ فرانکو فراتینی نے بھی اس عدالتی فیصلے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا،’ آج یورپ کے ہر دل عزیز جذبے کی جیت ہو گئی ہے‘۔ سٹراس برگ میں واقع یورپی عدالت نے قبل ازیں 2009ء میں اپنے ایک فیصلے میں اٹلی کے سکولوں میں صلیب کی علامات آویزاں کرنے کو غیر کتھولک گھرانوں کے بینادی انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا تھا۔

Italien Kruzifix Klassenraum

اٹلی میں گھروں اور دیگر جگہوں پر صلیب کے نشانات آویزاں کرنا روایت کا ایک حصہ ہے

عدالت کے اس فیصلے پر ویٹی کن سمیت کئی مذہبی حلقوں نے غصے کا اظہار کیا تھا، بعد ازاں اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی اورعدالت نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ دو کے مقابلے میں پندرہ ووٹوں سے منظور کیے گئے اس فیصلے میں کہا گیا،’ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ، جس سے معلوم ہو کہ سکول کی کلاسوں کے اندر ایسی علامات کی نمائش سے غیر کتھولک بچے متاثر ہوتے ہیں‘۔

اٹلی سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں ایسی علامات کی نمائش لازمی نہیں بلکہ روایتی طور پر کی جاتی ہے۔ کئی حلقوں کے مطابق صلیب کا نشان مذہبی نہیں بلکہ یورپی ثقافت اور روایت کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے اسے صرف مذہب سے ہی نہیں منسوب کرنا چاہیے۔

تاہم جمعہ کو عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا اطلاق صرف اٹلی کے پبلک سکولوں پر ہی ہو گا اور ضروری نہیں کہ یورپ کے دیگر ممالک بھی اس فیصلے کو تسلیم کریں۔ تاہم دوسری طرف ایسے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ پورپین عدالت برائے انسانی حقوق کے اس فیصلے کے بعد یورپ کے دیگر ممالک میں بھی مذہبی نشانات کی نمائش پر بحث شروع ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت : افسر اعوان

DW.COM