1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اٹلی کے تعاون سے K-2 کی صفائی کا منصوبہ

پاکستان میں واقع K-2 اپنی 8,611 میٹر کی بلندی کے ساتھ دُنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی مانی جاتی ہے۔ اِس پہاڑ کی صفائی کے سلسلے میں آج کل ایک منصوبے پر کام جاری ہے، جس کے لئے مالی وسائل اطالوی حکومت فراہم کر رہی ہے۔

default

ہر سال اندرون اور بیرون ملک سے سینکڑوں سیاح پاکستان کے شمال میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع چوٹی کے ٹو کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے علاو ہ یورپ جاپان اور کوریاکے مہم جو بھی یہ چوٹی سر کرنے کی کوشش میں یہاں آتے ہیں۔ کے ٹو کے اسی پس منظر کے سبب اطالوی حکومت نے حال ہی میں پاکستان میں کوہ پیمائی کے ایک کلب الپائن کے ساتھ مل کر K-2 کے ماحولیاتی حسن اور تنوع کو برقرار رکھنے کےلئے کے ٹو صفائی مہم کا آغاز کیا ہے۔

ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس مہم کے بارے میں الپائن کلب کے صدر اور معروف پاکستانی کوہ پیما نذیر صابر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا:”پاکستان کی تاریخ میں یہ دوسری صفائی مہم جاری ہے۔ ان برسوں کے دوران چوٹیوں پر بہت سا کوڑا کرکٹ جمع ہو گیا ہے اور یہاں تک کہ بعض لاشوں کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں، جو نیچے نہیں لائی جا سکیں، اگر وہ مل گئیں تو وہ بھی نیچے لانی ہیں۔ اٹلی کی امداد اور الپائن کلب کے تعاون سے ہم نے بہت سی افرادی قوت تیار کی ہے، جس کی رہنمائی ہمارا ایک تجربہ کار کوہ پیما کر رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایک مہینے کے اندر اندر ہم کیمپ 3 تک موجود خیمے اور سامان وغیرہ نیچے لے آئیں گے۔ اس گروپ میں کل 12 لوگ ہیں، جو یہ سارا سامان نیچے لائیں گے.‘

Ramin shojaei, broad peak

کے ٹو سیاحوں میں بھی مقبول ہے

اٹلی کی جانب سے اس صفائی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے کوہ پیمائی کے گائیڈ اورست گالوکے مطابق ان کا مقصد صرف کے ٹو ہی کی صفائی ہی نہیں بلکہ اردگردکے گلیشیرؤ ں کا ماحولیاتی تحفظ بھی ہے، جو بقول اُن کے لاکھوں انسانوں کے استعمال کےلئے پانی کی فراہمی کا وسیلہ بھی ہیں۔ اورست گالو کے مطابق ”ان گلیشیئرز سے بہنے والا پانی دریائے سندھ میں جاتا ہے اور لاکھوں افراد اس پانی کو پیتے ہیں۔ اگر ہم یہاں آلودگی ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ لاکھوں افراد کےلئے بہتر ہوگا۔ ہمیں اس مہم کو دریا کے ساتھ ساتھ ہر جانب پھیلانا ہے۔“

نذیر صابر کے مطابق کے ٹو کی صفائی مہم سے نہ صرف ماحولیاتی تنوع میں بہتری آئے گی بلکہ اس ماحول دوست منصوبے سے مقامی آبادی کی پیشہ ورانہ تربیت بھی ممکن ہو پائے گی۔ انہوں نے بتایا:”کوڑا کرکٹ کی ری پراسسنگ کا پلانٹ اسکولی لاس گاﺅں میں لگا ہوا ہے۔ وہاں تمام کوڑا کرکٹ کو ”ری پرا سیس“کیا جائے گا اور یہ نہ صرف کے ٹو کے لئے بہت اہم منصوبہ ہے بلکہ اس سے مقامی آبادی کی تربیت بھی ہوگی اور ہمارے لئے بھی یہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ کے ٹو کے علاوہ دوسرے پہاڑوں پر بھی اس طرح کی صفائی مہمات عمل میں لائی جائیں گی۔“

اطالوی کوہ پیما اورست گالو نے ان علاقوں میں فوج کی موجودگی کو بھی ماحولیات کےلئے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا:”آرمی کے بہت سے لوگ پورا سال ان علاقوں میں کیمپ لگا کر رہتے ہیں، نتیجتاً یہاں بہت سا کوڑا کرکٹ بھی جمع ہو جاتا ہے اور یہ لوگ (فوجی)گلیشیرؤں کی صفائی میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔“

خیال رہے کہ آج سے دو دہائی قبل یعنی1990ء میں بھی اطالوی حکومت ہی نے K-2 کی صفائی کی ایک مہم کو پایہء تکمیل تک پہنچایا تھا۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: امجد علی

DW.COM