اٹلی کی تقریباً آٹھ فیصد آبادی جنسی استحصال کا شکار | معاشرہ | DW | 14.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اٹلی کی تقریباً آٹھ فیصد آبادی جنسی استحصال کا شکار

ایک تازہ جائزے کے مطابق تقریباً دو ملین اطالوی شہریوں کو ان کے بچپن میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ متاثرہ شہریوں میں خواتین کی تعداد تقریباﹰ سولہ لاکھ اور مردوں کی تعداد چار لاکھ کے قریب تھی۔

روم میں ملکی شماریاتی ادارے آئی اسٹَیٹ کے مطابق جنسی استحصال یا بدسلوکی کا نشانہ بننے والے ایسے افراد کی اکثریت اجنبیوں کے ہاتھوں اس طرح کے رویوں کا نشانہ بنی۔ پندرہ فیصد خواتین اور قریب آٹھ فیصد مردوں نے بتایا کہ ان سے ایسے سلوک کے مرتکب افراد ان کے رشتے دار تھے۔

اس جائزے کے مطابق تقریباً سولہ لاکھ خواتین اور چار لاکھ مرد اس وقت جنسی استحصال کا نشانہ بننے، جب ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی۔ ان میں سے 43 فیصد متاثرہ خواتین اور 62 فیصد مردوں نے ان واقعات کے بعد کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا اور خاموش رہے۔

اس دوران یہ امر بھی واضح ہوا ہے کہا کہ متاثرہ افراد میں سے اکثر کو یہ اندازہ ہی نہیں ہو پایا کہ انہیں جنسی طور پر ستایا جا رہا ہے تاہم 15 فیصد واقعات میں لڑکیوں کو قریبی رشتہ داروں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا رہا جبکہ تقریباً چار فیصد واقعات میں لڑکوں کو پادری یا نن کے ہاتھوں جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

بچوں سے جنسی زیادتیاں: ویٹیکن اپنی عدالت قائم کرے گا

فرانس میں لاوارث مہاجر بچے، ’جنسی زیادتی، استحصال کے خطرات‘

بہرے بچوں کے درمیان درد بھری چیخیں صرف پادری ہی سن سکتے تھے

چرچ کے کوائر میں بچوں کے ساتھ زیادتی

آئی اسٹیٹ نے یہ بھی بتایا کہ 8.8 ملین اطالوی خواتین کو کسی نہ کسی انداز میں جنسی طور پر ہراساں کیا جا چکا ہے۔ اس  ایجنسی نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس سے قبل 2008 اور 2009ء میں اس طرح کا جائزہ مرتب کیا گیا تھا۔ تاہم اس دوران خواتین کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات 18.7 فیصد سے کم ہو کر 12.8  فیصد رہ گئے ہیں۔

DW.COM