1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اٹلی کی امیگریشن پالیسی تنقید کی زد میں

بحیرہء روم کے پانیوں میں تین ہفتےتک بے یار و مددگار بھٹکنے اور پھر ڈوب جانے والی، غیر قانونی افریقی تارکین وطن کی کشتی نے اٹلی کی سخت گیر امیگریشن پالیسی پر تنقید کے دروازے کھول دئے ہیں۔

default

اٹلی میں ہزاروں افراد سخت ترین پہرے میں سیاسی پناہ کے حوالے سے عدالتی فیصلے کے انتظار میں ہیں

اس واقعے سے ایک طرف اگر مخلوط اطالوی حکومت میں دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں تو دوسری جانب روم کو برسلز کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔

چند روز قبل اطالوی جزیرے لامپے ڈوسا کے قریب کھلے سمندر میں ڈوبنے والی افریقی تارکین وطن کی اس کشتی میں 78 افراد سوار تھے۔ ان میں سے صرف پانچ زندہ بچے۔ بچنے والے افراد نے بتایا کہ موٹر خراب ہونے پر یہ کشتی تین ہفتے تک بحیرہء روم کے پانیوں میں بھٹکتی رہی اور آس پاس سے گزرنے والی کسی بھی دوسری کشتی یا جہاز نے ان مسافروں کی مدد نہیں کی۔ اٹلی کے بہت سخت امیگریشن قوانین کے باعث ان افراد کو کسی بھی دوسرے جہاز نے بچا کر ساحل تک پہنچانے کا نہ سوچا۔ زندہ بچ رہنے والے افراد نے بتایا کہ لیبیا سے یورپ پہنچنے کی خواہش میں اس کشتی پر سوار دو حاملہ خواتین کے ساتھ انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والوں نے کئی مرتبہ جنسی زیادتی بھی کی۔

Die italienische Küstenwache greift ein Boot Einwanderungswilliger auf

نئے قوانین کے تحت کسی عام شخص کا غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کرنا ایک جرم ہے

شمالی افریقہ اور مغربی ایشیائی ممالک سے غیر قانونی طور پر ترک وطن کرنے والے افراد کے لئے اٹلی یورپ میں داخلے کا قدرے آسان راستہ خیال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اٹلی کو ہر سال ہزاروں تارکین وطن کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے اطالوی حکومت تارکین وطن سے متعلق ملکی قوانین کو انتہائی سخت بنا چکی ہے، اور ان میں دن بدن مزید سختی بھی کی جا رہی ہے۔ اطالوی وزیراعظم سلویو بیرلوسکونی نے کچھ عرصہ قبل ہی ان قوانین میں مزید سختی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد اس طرح کے حادثات میں سنگین حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندری پانیوں میں رونما ہونے والے اس تازہ ترین ہلاکت خیز واقعے میں زندہ بچنے والے غیر ملکیوں کے مطابق مچھیروں کی درجنوں کشتیاں ان کے آس پاس سے گزرتی رہیں، تاہم کسی نے بھی ان کی مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان افراد نے بتایا کہ صرف ایک کشتی ایسی تھی جس پر سوار افراد نے ان کی طرف کچھ خوراک پھینکی، تاہم موت کے خطرے سے دوچار غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ساتھ لے جانے کی درخواست پر اس کشتی کے عملے نے بھی معذرت کر لی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR سے وابستہ لاؤرا بولڈرینی کے مطابق :’’ایک وقت تھا کہ جب ماہی گیروں کے درمیان تارکین وطن کو بچانے کے لئے جیسے مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ مگر جب سے اٹلی نے ان نئے قوانین کو متعارف کروایا ہے، تب سے بحیرہء روم ایک آبی ویرانہ بنتا جا رہا ہے۔‘‘

نئے قوانین کے تحت اٹلی پہنچ جانے پر ان مہاجرین کو اس وقت تک سخت ترین پہرے میں رکھا جاتا ہے، جب تک کوئی عدالت انہیں سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ نہ کر لے۔ جولائی میں منظور کئے گئے تارکین وطن سے متعلق نئے اطالوی قانون کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کرنا جرم ہے۔

اٹلی اور لیببیا کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے میں لیبیا خود کو اس امر کا پابند بنا چکا ہے کہ وہ اپنی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کی یورپ کے لئے روانگی کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوششیں کرے گا۔ اس وجہ سے بھی غیر قانونی تارکین وطن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ مہاجرین کے عالمی ادارے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات اور پھر اس نئے معاہدے کے باعث اس وقت بھی سینکڑوں زیر حراست افراد کو شمالی افریقہ کی جیلوں میں غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے۔

تازہ ترین واقعے میں 73 افراد کی ہلاکت پر یورپی کمیشن نے بھی روم حکومت پر سخت تنقید کی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس پر اطالوی وزیراعظم نے یورپی یونین کو خبردار کیا تھا کہ یورپی کمیشن کے ترجمان اگر خاموش نہ ہوئے تو اٹلی یورپی بلاک سے ہر قسم کے تجارتی روابط ختم کر دے گا۔

بیس برس قبل تک اٹلی میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہو رہی تھی۔ مختلف ممالک اور ثقافتوں سے منسلک افراد کی اٹلی آمد سے معاشرے میں مثبت تنوع دیکھا جا رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے بچوں پر مشتمل کرکٹ ٹیم نے گزشتہ ماہ انڈر 15 یورپی کرکٹ ٹائٹل اپنے نام کر لیا تھا۔ اطالوی کرکٹ فیڈریشن کے صدر گمبینو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے اطالوی شہری ملک کے لئے صرف مسائل کی وجہ ہی نہیں بلکہ وہ ایک انتہائی قیمتی تحفہ بھی ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM