1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹلی: کاپ انامور کے خلاف مقدمہ، کپتان بری

آنکھوں میں ایک بہتر مستقبل کے خواب سجائےتارکین وطن کوسمندر میں ڈوب کر مرنےسے بچانے والی تنطیم" کاپ انامور" کے خلاف4 سال سے جاری مقدمے کا فیصلہ آج اٹلی میں سنا دیا گیا ہے۔

default

اس فیصلے میں اس تنظیم کے چئیرمین ایلیاس بیئرڈل اور اس کے بحری جہاز کے کپتان کو بری کر دیا گیا ہے ۔ تنظیم کاپ انامور پر غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر اٹلی لانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ آج سے پانچ برس قبل بحری جہاز ’’کاپ اَنامور‘‘ اٹلی کے جنوب میں واقع ایک جزیرے Lampe dusa کے قریب تھا، جب اُسے ایک کشتی دکھائی دی جو کہ ڈوبنے کے قریب تھی۔ اس کشتی میں 37 افریقی باشندے سوار تھے۔

Cap Anamur vor Sizilien

’’کاپ اَنامور‘‘ کے کپتان نے ان افریقیوں کو اپنے بحری جہاز میں سوار کیا اور اُنہیں اٹلی کی سرزمین پر اتار دیا۔ تب سے اس تنظیم کے خلاف یہ مقدمہ قائم تھا۔ اٹلی حکومت کا موقف تھا کہ ان افراد کو مالٹا پہنچایا جانا چاہیے تھا کیونکہ ان کو وہاں کے پانیوں سے بچایا گیا تھا۔ استغاثہ کی طرف سے اس تنطیم کے سابق چیئرمین ایلیاس بئیرڈل اور ’’کاپ انا مور‘‘ کے کپتان کیلئے 4 ،چار سال کی سزائے قید اور4 لاکھ یورو جرمانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اپنے خلاف الزامات کے حوالے سےبیئرڈل کا کہنا تھا: ’’ہم نہ تو انسانی سمگلر ہیں اور نہ ہی جرائم پیشہ لوگ۔ ہم نے تو انسانی جانیں بچائی ہیں اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘‘

تنظیم "کاپ انامور" کی بنیاد 1979ء میں رکھی گئی تھی اور اس کی وجہ ویتنام جنگ تھی۔ ویتنام جنگ کے دوران کئی ویتنامی باشندے ایسے تھے جو اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ سمندر کے راستے جنگ زدہ علاقوں سے فرارہونے کی کوشش کرتے تھے ۔ اِن کی ایک بڑی تعداد راستے ہی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی تھی۔

جرمن صحافی روپرٹ نوئے ڈیک نے پناہ کے متلاشی ان افراد کے حق میں نہ صرف کالم لکھے بلکہ چندہ بھی اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ جمع شدہ رقم سے کاپ انامور نامی ایک بحری جہاز خریدا گیا، جس کے ذریعے بحیرہء جنوبی چین سے ہزاروں ویتنامی باشندوں کو نکال کر جرمنی لایا گیا۔ تب سے یہ تنظیم عالمی سمندروں میں پناہ کے متلاشی افراد کی مدد کے لئے سرگرمِ عمل چلی آ رہی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی