1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اٹلی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا

اٹلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں سویڈن کے ہاتھوں ایک صفر سے شکست کے بعد عالمی مقابلے سے باہر ہو گیا۔ اس عالمی مقابلے کی چھ مرتبہ فاتح اطالوی قومی ٹیم گزشتہ ساٹھ برس سے مسلسل فٹبال ورلڈ کپ فائنل مقابلوں کا حصہ رہی۔

ساٹھ برس بعد ورلڈ کپ فائنل مقابلوں تک رسائی حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اطالوی کھلاڑی اور شہری غم زدہ تو دکھائی دیے لیکن دنیا بھر میں چھ مرتبہ ان مقابلوں کی اس فاتح ٹیم کے شائقین میں بھی مایوسی دیکھی گئی۔ یورپی ممالک کے مقامی میڈیا میں بھی یہی خبر سرخیوں کی زینت دکھائی دی۔

انگلینڈ کی شکست ’تاریخ کی بدترین‘

جرمنی کے کثیر الاشاعتی اخبار بلڈ نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھا، ’’خود پر فخر کرنے والے اطالوی سویڈن کی بہادر ٹیم کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اچانک بہت چھوٹے دکھائی دیے۔‘‘

اسی طرح ’زود ڈوئچے سائٹنگ‘ نے لکھا کہ اس رات کا اختتام ’آنسوؤں اور خاموشی‘ کے ساتھ ہوا۔ اس جرمن اخبار نے اپنی شہ سرخی میں یہ بھی لکھا کہ اس اہم میچ سے قبل ’’اطالوی ٹیم میں جیت کا جذبہ نمایاں دکھائی دیا، لیکن صرف جذبے سے فٹبال کا میچ نہیں جیتا جاتا۔‘‘

فائنل مقابلوں تک باآسانی رسائی حاصل کرنے والے ملک اسپین کے میڈیا میں بھی اٹلی کی اس تاریخی ناکامی کا ذکر نمایاں رہا۔ ایک ہسپانوی اخبار نے لکھا، ’’اطالوی ٹیم کو گیم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا‘‘۔ جب کہ سپورٹ نامی ایک معروف میگزین نے اسے ’اطالوی حقیقت‘ قرار دیا۔

معروف اطالوی گول کیپر بفون کے بیس سالہ کیریئر کا اختتام بھی اسی میچ کے ساتھ ہوا۔ میچ کے بعد بفون کی آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اور جذباتی انداز میں قوم سے معافی مانگنا نہ صرف سوشل میڈیا صارفین میں گفتگو کا محور بنا رہا بلکہ میڈیا نے بھی اسے خاص طور پر نمایاں کیا۔ مارکا نامی ہسپانوی اخبار نے بفون کی تعریف میں لکھا، ’’اٹلی، بفون ایسے فیئر ویل کے مستحق نہیں تھے۔‘‘

اٹلی کی طرح ہالینڈ کی ٹیم بھی اس ورلڈ کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائی۔ ہالینڈ کے اخبارات میں بھی اٹلی کے ساتھ ہمدردی دکھائی دی۔ ایک اخبار نے لکھا، ’’ہالینڈ کے بعد ایک اور اہم ٹیم ان مقابلوں سے باہر ہو گئی۔‘‘

یورو کپ فٹبال، اسپین اور اٹلی کوارٹر فائنلز میں

 

DW.COM