1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

اٹلی میں ’گوگل‘ پر مقدمہ

انٹرنیٹ کی دنیا پر راج کرنے والی سائٹ گوگل کا چرچہ اور اس سے جڑی مثبت اور منفی خبریں اب تقریباً ہر روز سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس امریکی ادارے سے جڑی دو اہم خبروں نے ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف کرلی ہے۔

default

’ذاتی زندگی‘ میں مداخلت کے ایک مقدمے میں اطالوی جج کی جانب سے ’گوگل‘ کے اعلیٰ عہداروں پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ اطالوی شہر میلان کی عدالت نے ’گوگل‘ کے تین اعلیٰ عہدیداروں پر فرد جرم عائد کی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ایک ذ‌ہنی طور پر معذور اطالوی بچے کی مضحکہ خیز ویڈیو ویب سائٹ سے کیوں نہیں ہٹائی گئی۔ چار سال قبل اس بچے کے ہم جماعتوں نے یہ ویڈیو ’گوگل‘ پر اپ لوڈ کی تھی، بہت سے ناظرین نے اس ویڈیو کو ویب سائٹ سے اتارنے کی رائے دی تاہم دو ماہ تک ایسا نہیں کیا گیا۔

میلان کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف گوگل نے اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ’گوگل‘ کا مؤقف ہے کہ عدالتی فیصلے سے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگی ہے۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو نہ تو ’گوگل‘ کے عہدیداروں نے فلمائی، نہ ویب سائٹ پر ’اپ لوڈ’ کی اور نہ ہی اسے اوائلی لمحات میں دیکھا۔ ادارے کے مطابق توجہ دلائے جانے کے بعد ویڈیو ویب سائٹ سے اتار دی گئی تھی۔

’گوگل‘ نے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے چین کےحوالے سے دئے گئے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کلنٹن نے انٹرنیٹ کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کا حصہ قرار دیا تھا۔ اٹلی میں امریکی سفارتخانے نے ’گوگل‘ کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔

Demonstration gegen Google China in Kalifornien

چین میں گوگل سنسر شپ کے خلاف مظاہرے بھی کئے گئے

دوسری طرف چینی محقیقن میں ان دنوں شدید بے چینی ہے کہ ’گوگل‘ کے بغیر ان کا کام کیسے چلے گا۔ ان کے بقول ’گوگل‘ ان کے لئے ویسی حیثیت رکھتا ہے جیسی انسانی زندگی کے لئے بجلی۔ ’نیچر‘ جریدے کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے بیشتر محققین بنیادی تحقیق کے لئے ’گوگل‘ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس جریدے نے سات سو چینی محقیقن سے ان کی رائے لی تھی۔

چین میں اس امریکی ویب سائٹ کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ گوگل نے چین میں سخت ’سنسر شپ‘ یعنی نگرانی کے خلاف بطور احتجاج وہاں سے اپنا کاروبار سمیٹنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔ دنیا بھر سے انٹرنیٹ پر معلومات کی جستجو میں نوے فیصد ناظرین گوگل کی مدد حاصل کرتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM