1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی میں مہاجرین کا بحران شدید ہوتا ہوا

نئے آنے والے مہاجرین کو رہائش فراہم کرنے کی خاطر اٹلی میں مہاجر کیمپوں کے لیے جگہ تلاش کی جا رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگر یورپی منصوبوں پر عمل درآمد میں مسائل پیدا ہوئے، تو اس ملک میں بھی پناہ گزینوں کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے روم حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اٹلی میں نئے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے مہاجرین کی یونین کے رکن ممالک میں ایک کوٹہ سسٹم کے تحت تقسیم کا منصوبہ اگر ناکام ہو گیا تو اس سے اطالوی حکومت کی مشکلات دوچند ہو سکتی ہیں۔ بہت سے یورپی ممالک اس منصوبے کے مخالف ہیں اور یہ معاملہ مسلسل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

اس صورتحال میں اٹلی میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ 35 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ پناہ کے متلاشی یہ افراد ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ مہاجرین کے استقبالیہ مراکز میں ابتر حالات میں مقیم یہ لوگ یہ بھی نہیں جاتے کہ آیا انہیں آگے دیگر یورپی ممالک جانے کی اجازت مل سکے گی یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

بے یقینی کی حالت میں بہت سے مہاجرین فرانس، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ سرحدی گزر گاہوں کے قریب عارضی کیمپ لگا چکے ہیں۔ تاہم سرحدوں پر سخت سکیورٹی کنٹرول کے باعث ان مہاجرین کا مزید سفر کرنا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ تاہم یہ مہاجرین پرامید ہیں کہ ایک دن وہ اپنے خوابوں کے ملک جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اٹلی اور فرانس کی سرحدی گزر گاہ پر واقع گاؤں اطالوی ’وینٹی میگلیا‘ Ventimiglia میں تیس ہزار مہاجرین اپنا عارضی پڑاؤ ڈال چکے ہیں۔ اس علاقے میں مہاجرین کی تعداد میں اضافے پر مقامی حکام نے پریشانی کا اظہار بھی کیا ہے۔

وزارت داخلہ میں امیگریشن امور کے چیف ماریو مارکون نے اس حوالے سے کہا، ’’ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ اس گاؤں میں (فرانس میں)کَیلے کی طرز کا کوئی عارضی شیلٹر ہاؤس نہ بنایا جا سکے۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ فرانسیسی علاقے کَیلے میں مہاجرین نے ایک بڑا عارضی کیمپ آباد کر رکھا ہے۔ وہاں پناہ کے متلاشی مہاجرین کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح برطانیہ جانے میں کامیاب ہو جائیں۔ فرانسیسی حکام اپنی پوری کوششوں کے باوجود اس کیمپ کو ابھی تک مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اٹلی کے مختلف علاقوں میں مہاجرین کو پناہ فراہم کرنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لیے دو یا تین بڑے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہر کیمپ میں اوسطاﹰ قریب ایک ہزار مہاجرین کو رہائش فراہم کی جائے گی۔

یورپ میں شمالی افریقی ممالک سے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے مارکون کو خدشہ ہے کہ اٹلی میں بھی مہاجرین کا بحران مزید شدید ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم وہ پوری کوشش کر رہے ہیں، جو ہم کر سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کام بہترین طریقے سے انجام پائے۔‘‘

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ روم حکومت کے ان نئے منصوبوں سے سڑکوں پر راتیں بسر کرنے والے سبھی مہاجرین کو کوئی نہ کوئی ٹھکانہ میسر آ جائے گا، بالخصوص ’وینٹی میگلیا‘ میں مہاجرین پلوں کے نیچے اور ساحل سمندر پر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

Griechenland Flüchtlinge auf der Insel Kos

’وینٹی میگلیا‘ میں مہاجرین پلوں کے نیچے اور ساحل سمندر پر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں

اسی طرح اٹلی کے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ملحقہ علاقے میں واقع سیاحوں میں انتہائی مقبول ’جھیل کومو‘ کے ارد گرد بھی مہاجرین کی بہتات دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں بھی ان بے گھر افراد نے خود ہی اپنے عارضی کیمپ بنا لیے ہیں۔ آسٹریا کے ساتھ سرحد کے نزدیک بھی مہاجرین جمع ہیں، جو موقع ملنے پر سرحد عبور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران بحیرہ روم کا سفر کرتے ہوئے اسّی ہزار مہاجرین اٹلی کے مختلف جزیروں پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ سال بھی اس عرصے کے دوران تقریباﹰ اتنے ہی مہاجرین اٹلی پہنچے تھے لیکن اس برس صورتحال زیادہ شدید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اٹلی کے ہمسایہ ممالک نے اپنی قومی سرحدوں کو بند کر رکھا ہے اور اس ملک میں پہنچنے والا ہر مہاجر وہاں رکنے پر مجبور جاتا ہے۔