1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹلی میں علاقائی انتخابات، بیرلسکونی کا امتحان

اٹلی میں اتوار کو دوروزہ علاقائی انتخابات کے لئے پولنگ کا آغاز ہوگیا۔ یہ پولنگ پیر کو بھی جاری رہے گی اور کل شام ہی اس کے نتائج کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔

default

ان انتخابات کو بیرلسکونی کے لئے امتحان سے تعبیر کیا جا رہا ہے

اٹلی میں دو روزہ علاقائی انتخابات کے پہلے روز ووٹنگ کا تناسب بہت کم رہا۔ اٹلی کے تقریبا41 ملین شہری انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ روم میں وزرات داخلہ نے بتایا کہ پہلے دن ووٹنگ کا تناسب پانچ سال قبل ہوئے انتخابات کے مقابلے میں پانچ فی صد کم رہا۔ ان انتخابات کے ذریعے ملک کے 13 میں گورنرز کا انتخاب کیا جائے گا۔

اتوار کے روز ملک کے 50 ہزار پولنگ اسٹیشنز میں صبح آٹھ بجے پولنگ کا آغاز ہوا اور یہ بغیر کسی وقفے کے رات دس بجے تک جاری رہی۔ آج صبح سات بجے پولنگ شروع ہوگی اور سہ پہر تین بجے اس کا اختتام ہو جائے گا۔

Wahlen Italien Plakate

عوامی جائزوں کے مطابق حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے

عوامی جائزوں کے مطابق وزیراعظم بیرلسکونی کی جماعت پیپل آف فریڈم PDL کی مقبولیت میں گزشتہ چند ماہ میں شدید کمی دیکھی گئی ہے اوراس جماعت کی انتخابی مہم بھی اتنی پرکشش نہیں تھی کہ یہ ووٹروں کا جھکاؤ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب رہتی۔ یہ حکمران جماعت 2013ء تک کے لئے ملک کے مرکزی ایوان میں اطالوی عوام کی نمائندہ ہے تاہم ان علاقائی انتخابات میں اس جماعت پر عوامی عدم اعتماد کا مطلب یہ ہوگا کہ مسقبل میں ملکی وزارت عظمیٰ بیرلسکونی کے ہاتھوں سے جا سکتی ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی کی سب سے بڑی وجہ وزیراعظم بیرلسکونی اوران کی جماعت کے حوالے سے پے در پے منظر عام پر آنے والے اسکینڈلز ہیں۔

اٹلی میں شمالی اتحاد کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور یہ جماعت ملک کے اہم علاقوں میں اپنی جڑیں مظبوط کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق بیرلسکونی کے آبائی علاقے اور ملک کے اقتصادی دارالحکومت میلان میں بھی اس جماعت کو دیگر جماعتوں پر سبقت حاصل ہے۔ یہ جماعت 2008 ء میں بیرلسکونی کو تیسری مرتبہ اقتدار میں لانے میں کلیدی کردار کی حامل رہی تھی۔ یہ پارٹی ملک سے غیر قانونی تارکین وطن کے انخلاء اور امیگریشن قوانین میں سختی کی حامی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM