1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے اب زیادہ تیز رفتار

اطالوی حکومت نے سیاسی پناہ کی درخواستیں نمٹانے کے عمل میں تیزی اور ناکام درخواست گزاروں کی جلد از جلد ملک بدری کی نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

سن 2014ء سے غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی قوانین کے مطابق اطالوی حکومت کو تارکین وطن کے لیے ہاٹ اسپاٹس بنانا پڑ رہے ہیں، جہاں سیاسی پناہ کے حق دار اور اس حق سے محروم تارکین وطن کو الگ الگ رکھا جا سکے۔ اطالوی حکام کے مطابق سن 2014ء سے اب تک اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد نصف ملین کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس سلسلے میں انتظامی فعالیت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی پناہ کی درخواستوں کو جلد سے جلد نمٹایا جائے، تاکہ ایسے تارکین وطن، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں ناکام ہو جائیں، انہیں جلد از جلد ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا سکے۔

حکام کے مطابق حالیہ کچھ برسوں میں اٹلی میں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عدالتوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر صورت حال میں تبدیلی نہ آئی، تو ان درخواستوں پر فیصلوں میں کئی برس بھی لگ سکتے ہیں۔

Mittelmeer Schiffsunglück Flüchtlingsboot vor der libyschen Küste gesunken (Getty Images/T.M. Puglia)

اٹلی کو مہاجرین کے شدید بہاؤ کا سامنا ہے

تاہم اطالوی حکومت کی جانب سے منظور کردہ نئے ضوابط کے مطابق اب سیاسی پناہ کی کوئی بھی درخواست رد ہو جانے کی صورت میں صرف ایک مرتبہ اپیل کا حق دیا جائے گا، جب کہ یہ اپیل بھی درخواست رد ہونے کے صرف ایک ماہ کے اندر اندر کی جا سکے گی۔

اس قانون کے تحت ملک بھر میں عدالتوں میں مہاجرت سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے 26 نئے سیکشن قائم کیے جا رہے ہیں۔

اس قانون کے تحت سیاسی پناہ کی درخواستوں کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے وزارت داخلہ کو بھی اضافی افرادی قوت کے طور پر مزید ڈھائی سو ماہرین مہیا کیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اٹلی میں ان نئے ضوابط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو ان کے انسانی حقوق کے حوالے سے حاصل مختلف طرح کی ضمانتیں کم ہو سکتی ہیں۔

ایمنسٹی کے ایک بیان کے مطابق، ’’سیاسی پناہ کی درخواستوں پر جلد فیصلے ان تارکین وطن کے لیے ہی بہتر ہیں، مگر تیزی کے عمل میں ان کے حقوق کو ہرگز محدود نہ کیا جائے۔‘‘