1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹلی میں زلزلے کے بعد یوم سوگ، ہلاک شدگان کی تدفین شروع

اٹلی میں زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کی آخری رسومات میں صدر ماتاریلا اور وزیر اعظم رینزی بھی شریک ہو رہے ہیں۔ ماتاریلا نے اماتریس نامی قصبے کا دورہ بھی کیا، جو اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے اطالوی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ وسطی اٹلی میں بدھ کے دن آنے والے زلزلے کی تباہ کاریوں کی وجہ سے مجموعی طور پر دو سو چوراسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ روم حکومت نے ہفتے کے دن قومی سوگ کا اعلان کر رکھا ہے اور اس مناسبت سے متعدد تعزیتی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔

صدر سرجو ماتاریلا اور وزیر اعظم ماتیو رینزی نے ستائیس اگست بروز ہفتہ آسکولی پنچینو نامی علاقے کا دورہ بھی کیا، جہاں متعدد افراد کی تدفین کے لیے تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

صدر ماتاریلا ہیلی کاپٹر کے ذریعے اماتریس پہنچے جہاں سے انہوں نے زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر اطالوی صدر نے امدادی کارکنوں سے بھی ملاقات کی اور ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں اپنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی تک متعدد افراد لاپتہ ہیں، جو مبینہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ رات وسطی اٹلی میں ایک مرتبہ پھر بہت سے ضمنی جھٹکے محسوس کیے گئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر ان کی شدت 4.2 محسوس کی گئی۔

اٹلی میں بدھ کے دن بڑا زلزلہ ملک کے ایسے وسطی پہاڑی علاقے میں آیا تھا، جہاں ان جھٹکوں کے نتیجے میں متعدد قصبے بری طرح تباہ ہو گئے اور کئی مقامات پر سینکڑوں مکانات بھی منہدم ہو گئے تھے۔

Italien Erbeben Sergio Mattarella in Amatrice

صدر ماتاریلا نے اماتریس نامی قصبے کا دورہ بھی کیا، جو اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے

Italien Erdbeben Pescara del Tronto

اس زلزلے کی وجہ سے سب سے زیادہ تباہی اماتریس میں ہوئی، جہاں دو سو چوبیس افراد ہلاک ہوئے

Italien Erdbeben Flagge auf Halbmast

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے

ریکٹر اسکیل پر 6.2 کی شدت کا یہ زلزلہ اطالوی دارالحکومت روم سے 85 میل یا 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی علاقے میں آیا تھا لیکن یہ طاقت ور جھٹکے شمال اور جنوب میں دو دو سوکلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع شہروں نیپلز اور بولونیا تک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس زلزلے کی وجہ سے سب سے زیادہ تباہی اماتریس میں ہوئی، جہاں دو سو چوبیس افراد ہلاک ہوئے۔ قریبی علاقے آکومولی میں گیارہ جبکہ چالیس افراد Arquata del Tronto میں لقمہ اجل بنے۔

اس زلزلے کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے سینکڑوں شہری عارضی پناہ گاہوں میں قیام کرنے پر مجبور ہو گئے، جہاں امدادی کارکن ان متاثرین کو بنیادی خدمات اور سامان مہیا کر رہے ہیں۔