1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اٹلی میں ریفرنڈم، بیرلسکونی کا امتحان

اٹلی میں دو روزہ ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ووٹر جوہری توانائی کے استعمال اور وزیر اعظم کو مقدمات کا سامنا کرنے کے حوالے سے حاصل قانونی تحفظ پر فیصلہ دیں گے۔

default

اس ریفرنڈم کو اٹلی کے وزیر اعظم سیلویو بیرلسکونی کے لیے ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ انہیں علاقائی انتخابات میں پہلے ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ریفرنڈم کے نتائج ان کے خلاف گئے تو ان کے لیے تذلیل کا ایک نیا راستہ کھل جائے گا۔

ریفرنڈم کو اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔ حکومت نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس عمل سے دُور رہیں، تاہم اتوار کو ریفرنڈم کے پہلے روز ٹرن آؤٹ اکتالیس فیصد رہا ہے جبکہ ووٹنگ پیر کو بھی جاری رہے گی۔ اس سے امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ریفرنڈم میں شامل نکات کی منظوری کے لیے درکار پچاس فیصد ووٹ حاصل ہو جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرنے والوں میں سے زیادہ تر اپوزیشن کے حامی ہیں۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ ریفرنڈم میں جوہری توانائی کا استعمال پھر سے شروع کرنے اور بیرلسکونی کو قانونی کارروائی سے حاصل تحفط پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

اپوزیشن جماعت ’اٹلی فار ویلیوز‘ کے رہنما اینٹونیو دی پیترو کا کہنا ہے: ’’یہ کے ٹو سر کرنے کے مترادف ہے، لیکن مجھے تو چوٹی پہلے ہی دکھائی دے رہی ہے۔ ہم مل کر وہاں پہنچ سکتے ہیں۔‘‘

مرکزی اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی فتح کو قریب قرار دیا ہے۔ اس جماعت کے ایک ترجمان نے کہا: ’’ٹرن آؤٹ بہت زیادہ ہے اور ہم جیت کے قریب ہیں۔‘‘

اس ریفرنڈم کے نتائج اپوزیشن کی توقعات کے مطابق رہے تو اٹلی میں 2014ء تک جوہری توانائی کا پروگرام بحال کرنے کے حکومتی منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

اٹلی میں گزشتہ برس ایک قانون منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت بیرلسکونی کو اپنے خلاف مقدمات میں عدالت کا سامنا کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے، ووٹرز اس قانون کو بھی ختم کرا سکتے ہیں۔

اٹلی کے 74 سالہ وزیر اعظم بیرلسکونی کو رشوت، دھوکہ دہی اور سترہ سالہ لڑکی کے ساتھ رقم کے عوض جنسی تعلق قائم کرنے کے تین مقدمات کا سامنا ہے۔ وہاں ایک آئینی عدالت پہلے ہی بیرلسکونی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے والے بیشتر نکات ختم کر چکی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس