1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی مہاجرین کی آمد کے دباؤ میں، شہریت کے بِل پر ووٹنگ موخر

اٹلی کی حکومت نے اپنے ساحلوں پر تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کے تناظر میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث حقِ شہریت کے قانون کے بِل پر ہونے والی پارلیمانی ووٹنگ موخر کر دی ہے۔

غیر ملکی والدین کے اٹلی کی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو پانچ سال تک اٹلی کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد حق شہریت دینے کی تجویز کو اطالوی وزیر اعظم پاؤلو جینٹی لونی کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم جینٹی لونی نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ بل کو اس سال کے آخر تک کے لیے موخر کیا جا رہا ہے کیونکہ فوری نوعیت کے بعض معاملات پہلے نمٹانے ضروری ہیں۔

 اطالوی وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بِل کی مظوری اس سال موسم خزاں تک دے دی جائے گی۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انجیلینو الفانو جو ملکی حکمران اتحاد میں ایک چھوٹی اعتدال پسند پارٹی کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اگرچہ مجوزہ قانونی مسودے کو اُن کی اصولی حمایت حاصل ہے تاہم وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ مہاجرین کے حوالے سے اٹلی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اس بل کی حمایت میں کافی ووٹ حاصل ہوں گے۔

اٹلی میں گزشتہ ہفتے ہوئے ایک جائزے کے مطابق غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے حق شہریت کے مجوزہ بِل کو اطالوی باشندوں کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے، اگرچہ یورپی یونین کے دیگر ممالک میں بھی شہریت کے حصول کا ایسا راستہ موجود ہے، اور باوجود اس کے کہ اس مسودہ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس ڈرافٹ کا نئے آنے والے تارکین وطن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ خیال رہے کہ سن دو ہزار سترہ کی پہلی ششماہی میں قریب 86،000 تارکین وطن بحیرہ روم کے راستے اٹلی کے جنوبی ساحلوں پر پہنچے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برس اسی عرصے میں اٹلی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد سے دس گنا زیادہ ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic