1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی: مہاجرین کا تین منٹ کے لیے گھر والوں سے فون پر رابطہ

مسلسل گیارہ ماہ سفر کرنے کے بعد محمد اپنی والدہ کی آواز ایک بار پھر سُن سکا۔ یہ سب فلاحی تنظیم  ریڈ کراس کے ایک موبائل کیمپ کے باعث ممکن  ہوا، جو اٹلی بھر میں  مہاجرین کا فون کے ذریعے اُن کے خاندانوں سے رابطہ کرواتا ہے۔

Flüchtlinge Telefonat mit Verwandten (Getty Images/AFP/A.Pizzoli)

ریڈ کراس کا ایک موبائل کیمپ اٹلی میں مہاجرین کا اپنے گھر والوں سے فون پر رابطہ کراتا ہے

اٹلی کے شمال میں وینٹی میلیا کی طرف سے سرحد عبور کرتے ہوئے ملک کے جنوبی جزیرے لامپیڈوسا میں ریڈ کراس کی سفید رنگ کی وین،  حال ہی میں اٹلی پہنچنے والے ہزاروں تارکینِ وطن کو اپنے پیاروں سے تین منٹ کے لیے فون پر رابطہ کرا چکی ہے۔ اِس وین کا آخری اسٹاپ کل بروزِ پیر اٹلی کا دارالحکومت روم تھا جہاں یہ ریڈکراس کے ایک کیمپ کے سامنے رکی تھی۔

 اس کیمپ میں  بُحیرہ روم کے پُر خطر سفر کے بعد اٹلی پہنچنے والے قریب دو سو تارکینِ وطن مقیم ہیں جہاں سے انہیں استقبالیہ مراکز  منتقل کیا جائے گا۔ کیمپ میں رضا کاروں کی جانب سے لگائی گئی میز کرسیوں میں سے ایک پر محمد نامی مہاجر  بیٹھا ہے، جس  کا تعلق افریقی ملک سینیگال سے ہے۔

 اُس کے ارد گرد بنگلہ دیش، اریٹیریا، پاکستان اور مغربی افریقہ سے ہجرت کر کے آنے والے پناہ گزینوں کی ایک بھیڑ لگی ہے۔ بعض کو تو اب تک اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا۔ یہ سبھی اپنے رشتہ داروں سے بات کرنے کے منتظر ہیں۔ لیکن اِس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ نیٹ ورک کے مسائل ہو سکتے ہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ فون کا ریسیور دوسری جانب ٹھیک طرح سے نہ رکھا گیا ہو۔ لیکن اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کی ماں، بھائی یا کوئی پڑوسی فون اٹھاتا ہے اور پھر فاصلے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔

Flüchtlinge Migranten Telefonat Telefon Smartphone Handy (Getty Images/AFP/A.Pizzoli)

 اس کیمپ میں  بُحیرہ روم کے پُر خطر سفر کے بعد اٹلی پہنچنے والے قریب دو سو تارکینِ وطن مقیم ہیں

 محمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’میں نے پانچ ماہ سے اپنی والدہ سے بات نہیں کی تھی۔ جب میں نے اُن کی آواز سنی تو میرا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔‘‘محمد سن 2016 اپریل میں گھر سے نکلا تھا۔ صحارا کا ریگستان عبور کرنے کے بعد جب وہ لیبیا پہنچا تو اسے یرغمال بنا لیا گیا، جہاں اسے یورپی بارڈر ایجنسی فرانٹیکس کے تحت کام کرنے والے ایک نارویجین جہاز کے ذریعے بچایا گیا۔

 محمد نے سینیگال میں اپنے گھر والوں سے فون پر اپنی بڑی بہن کا شکریہ ادا کیا، جس نے اسے یورپ کے سفر کے لیے پیسے دیے تھے۔ اُس نے اپنے دوستوں کو یورپ آنے کے لیے پُر خطر راستے اختیار کرنے سے خبر دار بھی کیا۔ محمد نے کہا،’’ وہ کبھی نہ کرنا جو میں نے کیا۔ میں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔‘‘

DW.COM