1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹلی ميں مختلف شعبوں ميں اصلاحات کی شديد ضرورت

اب قرضوں کے بحران کے حوالے سے يونان کے ساتھ ساتھ فوراً اٹلی کا نام بھی ليا جانے لگا ہے۔ اٹلی کو بحران سے نکلنے کے ليے بدھ تک ٹھوس منصوبہ پيش کرنا ہے۔ ليکن اٹلی کے مسائل کی فہرست طويل ہے جن کا حل راتوں رات ممکن نہيں ہے۔

اٹلی کے وزير اعظم برلسکونی

اٹلی کے وزير اعظم برلسکونی

اٹلی ميں ابھی تک پنشن کا وہ ضابطہ بھی رائج ہے جسے اقتصادی ماہرين قومی معيشت کے ليے بہت مہنگا سمجھتے ہيں۔ اس ضابطے کے تحت مرنے والے پنشن يافتہ کا بھائی يا بہن اُس کی پنشن کے 15 فيصد کے حقدار بن سکتے ہيں۔ روم کی لوئيس يونيورسٹی کے اقتصاديات کے پروفيسر پيترو رائشلين کا کہنا ہے کہ اٹلی ميں پنشن کے نظام ميں اصلاح کی ضرورت سب سے زيادہ ہے: ’’اٹلی ميں اگلے دو تين برسوں ميں پنشن ايک شديد مسئلہ بنی رہے گی کيونکہ بہت سے لوگ بہت کم عمر ہی ميں ريٹائر ہو جاتے ہيں۔ اس کے علاوہ پنشنيں بہت زيادہ ہيں۔ ہمارے پنشن کے بيمے کے قومی ادارے پر اتنا زيادہ قرض ہے جو کبھی بھی ادا نہيں ہو سکتا۔‘‘

روم ميں معاشی نا ہمواريوں کے خلاف مظاہرہ

روم ميں معاشی نا ہمواريوں کے خلاف مظاہرہ

اٹلی ميں پنشن يافتہ افراد بڑے فائدے ميں ہيں ليکن نوجوانوں کے مسائل شديد ہيں۔ 25 سال سے کم عمر افراد ميں بے روزگاری کی شرح 28 فيصد ہے۔ يہ نہ صرف ايک سماجی مسئلہ ہے بلکہ صنعتکار ماريا گروس پيترو کا کہنا ہے کہ اس طرح اٹلی جدت طرازی کی صلاحيت سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹلی کی آبادی عالمی آبادی ميں ايک فيصد سے بھی کم ہے اور وہ صرف اسی صورت ميں کوئی مقام حاصل کر سکتا ہے جب وہ عالمی معيار کی نئی ايجادات کر سکے۔ انہوں نے يہ بھی کہا کہ دفتری نظام سب سے زيادہ خراب ہے۔ تعميرات کی اجازت بہت لمبے عرصے کے بعد ملتی ہے اور عدالتی کارروائی ميں اس سے بھی زيادہ وقت لگتا ہے۔ اٹلی ميں عام شہريوں کو اپنے حقوق کے حصول کے ليے بہت زيادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کام کچھ جلد کرانے کے ليے رشوت دينا پڑتی ہے۔

اٹلی کے شہر ميلان ميں بلدياتی انتخابات

اٹلی کے شہر ميلان ميں بلدياتی انتخابات

روم کے پرائيويٹ بينک فينات کی اقتصادی تجزيہ نگار تاتيانا آئفرگ کا کہنا ہے کہ کرپشن اور اقربا پروری اطالوی معيشت کا راستہ روکے ہوئے ہے۔

اٹلی کا ايک اور مسئلہ يہ ہے کہ نيپلز سے جنوب کے تمام علاقوں ميں سڑکوں اور ريلوے کی حالت بہت خراب ہے۔ مشکل ہی سے کوئی سڑک اچھی حالت ميں ملتی ہيں۔

يہ تمام مسائل سياستدانوں کی نا اہلی کی وجہ سے ايک لمبی مدت ميں پيدا ہوئے ہيں۔ مثال کے طور پر وزيراعظم برلسکونی پچھلے 17 سال سے ساليرنو اورکالابريا کے علاقے کے درميان شاہراہ کی توسيع کی باتيں کر رہے ہيں ليکن ہوا کچھ بھی نہيں ہے۔

رپورٹ: ٹلمن کلائن يُنگ، روم / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM