اٹلی: تین دن میں بارہ سو تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا | مہاجرین کا بحران | DW | 24.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی: تین دن میں بارہ سو تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا

یورپ بھر کے ادارے ان دنوں کرسمس کی وجہ سے بند ہیں۔ لیکن یونان اور اٹلی کے ساحلی محافظوں کا کام مزید بڑھ گیا ہے۔ ان کا کام بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں تارکین وطن کی جانیں بچانا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق آج جمعرات چوبیس دسمبر کے روز اطالوی ساحلی محافظوں نے امدادی کارروائیوں کے دوران 371 ایسے تارکین وطن کو بحیرہ روم کی لہروں سے بچا لیا، جو چھوٹی اور خطرناک کشتیوں کے ذریعے اس سمندری راستے سے اٹلی کی جانب گامزن تھے۔

اطالوی دارالحکومت روم سے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صرف گزشتہ تین روز کے دوران 1200 کے قریب پناہ گزینوں کو کھلے سمندر سے نکالا گیا۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کے مطابق ان کی نظر بحیرہ روم میں سفر کرنے والی دو کشتیوں پر پڑی، جن میں دو سو پچاس مہاجرین سفر کر رہے تھے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انسانوں کے اسمگلر کسی بھی کشتی میں گنجائش سے بہت زیادہ تعداد میں تارکین وطن کو سوار کرا دیتے ہیں، جس سے کشتی الٹنے جیسے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ یورپی یونین کے بحری مشن نے بھی ایک کشتی کو بچایا، جس میں ایک سو اکیس پناہ گزین اٹلی کی طرف سفر پر تھے۔

اس سے قبل ساحلی محافظوں نے منگل اور بدھ کے روز امدادی کارروائیوں میں 809 دیگر تارکین وطن کو بھی بچا لیا تھا۔

خبر رساں ادارے آنسا کی رپورٹوں کے مطابق آج جمعرات کے روز اطالوی جزیرے سسلی کے جنوبی قصبے پورتو اِمپیدوکلے میں 661 تارکین وطن کی آمد متوقع ہے۔ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ روز 210 پناہ گزینوں کو سمندر سے نکال کر اٹلی کے ایک اور ساحلی شہر آؤگسٹا پہنچا دیا گیا تھا۔

اگرچہ بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں موسم گرما کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم اب بھی یہ تعداد توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ سرد موسم کے باعث حالیہ دنوں میں ایسا سمندری سفر خطرناک تر ہو چکا ہے۔

Symbolbild Griechenland Ärzte ohne Grenzen auf Kos

بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن میں ڈوبنے والے تارکین وطن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

خراب موسم کے باعث صرف گزشتہ دو روز کے دوران بحیرہ ایجیئن کے ذریعے ترکی سے یونان پہنچنے کی کوشش میں کئی تارکین وطن ہلاک ہوگئے۔ آج ترک ساحل کے قریب بھی ایک کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں سمندری لہریں کم از کم انیس تارکین وطن کو نگل گئیں۔

بحیرہ ایجیئن کے ذریعے یونان تک کا سفر بحیرہ روم کے سمندری سفر کی نسبت بہت مختصر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق رواں برس ڈیڑھ لاکھ سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم عبور کر کے اطالوی ساحلوں تک پہنچے۔

DW.COM