1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹلی بھی لیبیا پر فضائی حملوں میں شریک

اٹلی کے فائٹر پائلٹوں نے پہلی مرتبہ لیبیا پر فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔ مصراتہ میں قذافی کی فورسز اور باغیوں کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے جبکہ باغی شہر کے ایئرپورٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

default

اٹلی کی وزارت دفاع کے مطابق دو ٹورناڈو پائلٹوں نے جمعرات کو لیبیا میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے سِسلی سے پرواز بھری۔ حکام نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ اب تک اٹلی نے فضائی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا تھا اور نیٹو کے مشن کے لیے محض اپنے سات فضائی اڈے ہی فراہم کر رکھے تھے۔

اس پر اطالوی وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی کو اندرون ملک اپنی اتحادی جماعت ناردرن لیگ کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ اٹلی کی جانب سے ان حملوں میں براہ راست شرکت پر وہاں دائیں بازو کی جماعت ناردرن لیگ کے رہنما رابرٹو کالدیرولی نے سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم بد سے بدتر بن رہے ہیں۔‘

اُدھر خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر جمعرات کو نیٹو کے طیاروں نے پروازیں کیں۔ اس کے بعد وہاں پانچ دھماکے ہوئے۔ مصراتہ میں بھی قذافی نواز فورسز اور باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے شہر پر مارٹر شیل اور راکٹ برسائے ہیں۔

مصراتہ میں لڑنے والے باغیوں نے کہا ہے کہ اس محصور شہر پر بمباری صرف نیٹو ہی رکوا سکتی ہے۔ باغی مصراتہ کے ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں جبکہ وہ قذافی کی فورسز کو شہر کی بندرگاہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ فتح نزدیک ہے۔

Frankreich Luftwaffe Kampfjet Dassault Rafale über Libyen

لیبیا نے فضائی کارروائی میں پہلی مرتبہ حصہ لیا

لیبیا میں گزشتہ دو ماہ سے جاری خانہ جنگی جمعرات کو تھوڑی دیر کے لیے ہمسایہ ملک تیونس میں بھی داخل ہو گئی۔ جس پر تیونس حکام نے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ دراصل لیبیا کی فوج سرحد پار کر گئی تھی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلا اور قذافی کے فوجیوں نے مقامی سطح پر اس کے لیے معذرت بھی کی۔ تیونس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا ایسی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اعلامیے کے مطابق طرابلس حکام کو اس مطالبے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا ایک پینل بھی تشدد کے واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کے لیے لیبیا پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس