1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی بھر میں مہاجرین کے لیے ثقافتی مراکز بنانے کا منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان مخالف حکم نامے کے اجراء سے جہاں دنیا بھر میں گرما گرم بحث کا آغاز ہوا ہے وہیں اٹلی کی حکومت  تارکینِ وطن اور اطالوی عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

Italien - Integrationsprojekt für Flüchtlinge (Getty Images/AFP/M. Medina)

بیلونو میں 100 کے قریب مہاجرین نے مقامی تنظیموں کی نگرانی میں شہر کی ریلنگ اور اسکولوں کے گیٹ پر رنگ کیا اور پارکوں کی گھاس  بھی کاٹی

شمال مشرقی اٹلی میں  ’دولومیتیس‘ نامی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ’بیلونو‘ کے ایک قصبے میں شدید برف باری کے باوجود نوجوان افریقی مردوں پر مشتمل ایک گروہ بخوشی ایک فوجی بیرک کی صفائی میں جتا ہوا ہے۔ اس جگہ اب ایک ثقافتی مرکز قائم کیا جائے گا۔ ایک 35 سالہ پاکستانی تارکِ وطن نواز تصور نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ یہ پہلی بار ہے کہ میں نے برف باری ہوتے دیکھی ہے۔ مجھے برف باری بہت پسند ہے اور یہ منصوبہ بھی۔‘‘

کیمرون ، آئیوری کوسٹ، نائجر، نائیجیریا اور سینیگال کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ان پناہ گزینوں کو اٹلی کے شہر وینس کے قریب  اس صنعتی مرکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ یہاں پینتس ہزار کے قریب مقامی باشندے رہائش پذیر ہیں۔ توقع ہے کہ اطالوی حکومت مہاجرین کے اٹلی میں انضمام کے اس منصوبے پر سے آج بروزِ بدھ پردہ اٹھائے گی اور اس حوالے سے تفصیلات سامنے لائے گی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اِس منصوبے پر اُن مہاجرین کا رضاکارانہ کام کرنا لازمی بنایا جائے گا جنہو‌ں نے اٹلی میں پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔

 یہ سوال کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اٹلی پہنچنے والے تارکینِ وطن کے ساتھ کیا کیا جائے، ابھی تک متنازعہ رہا ہے۔ فی الوقت ایک لاکھ پچھتر ہزار  سے زائد پناہ گزین استقبالیہ مراکز میں اپنی درخواستوں پر عمل در آمد کے منتظر ہیں اور اس عمل کے مکمل ہونے میں دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

Italien - Integrationsprojekt für Flüchtlinge (Getty Images/AFP/M. Medina)

ایک بنگالی مہاجر اٹلی کے قصبے بیلونو میں کچن اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے

مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ترجمان کارلوتا سامی نے  اے ایف پی کو بتایا ،’’ بہت سے پناہ گزین ایسے بھی ہیں جو بے کار نہیں بیٹھ سکتے۔ ایسے میں دن کے چند گھنٹے اُس کمیونٹی کے لیے کام کرنا جہاں انہیں خوش آمدید کیا جا رہا ہے خود اِن تارکینِ وطن کے لیے نفسیاتی طور پر بہتر ہو گا۔‘‘

اٹلی میں تارکینِ وطن کو پناہ کی درخواست دائر کرنے کے دو ماہ بعد ملازمت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تاہم ملازمتیں ملنے کا تناسب بہت کم ہے۔ بیلونو میں 100 کے قریب مہاجرین نے مقامی تنظیموں کی نگرانی میں شہر کی ریلنگ اور اسکولوں کے گیٹ پر رنگ کیا اور پارکوں کی گھاس  بھی کاٹی ۔ اس منصوبے کا آغاز سن 2014 میں اس خیال کے ساتھ کیا گیا تھا کہ خود مختاری دیرپا انضمام کا سبب بن سکتی ہے۔

 شمالی افریقہ کے ساحلوں سے اٹلی کی جانب ہزارہا تارکین وطن کی آمد نے دوسری عالمی  جنگ کے بعد مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔ سن 2014 میں اٹلی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ ستّر ہزار ، سن 2015 میں ڈیرح لاکھ جبکہ گزشتہ برس  ایک لاکھ  اکاسی ہزار تھی۔

DW.COM