1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی ایک سال بعد بھی زیر آب مہاجرین کی تلاش میں

گزشتہ برس اٹھارہ اپریل کو سینکڑوں تارکین وطن سے لدا بحری جہاز بحیرہ روم میں ڈوب گیا تھا۔ اطالوی حکومت نے اس بدترین حادثے میں ڈوبنے والے تارکین وطن کی زیر آب پھنسی لاشیں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی روم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اطالوی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اٹلی گزشتہ برس بحیرہ روم میں ڈوبنے والے تارکین وطن کی لاشیں تلاش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

پاکستانی مہاجرین کو وطن واپس جانا پڑے گا، ترکی

گزشتہ برس اٹھارہ اپریل کے روز سینکڑوں مہاجرین اور تارکین وطن سے لدا ایک بحری جہاز لیبیا سے اٹلی کی جانب سفر کرتے ہوئے ڈوب گیا تھا۔ لیبیا کی سرحد سے 157 کلو میٹر دور اور سمندر کے 375 میٹر گہرے پانی میں ڈوبے ہوئے اس بحری جہاز میں سینکڑوں تارکین وطن کی لاشوں کی موجودگی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اطالوی وزارت داخلہ کے اہلکار ویتوریو پِشیتیلی نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ اطالوی بحریہ کے خیال میں بحری جہاز میں کم از کم چار سو پناہ گزینوں کی لاشیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ صرف ایک اندازہ ہے، حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔‘‘

تفصیلات کے مطابق بحری جہاز کو گہرے پانیوں سے نکال کر نیٹو کی بحری بیس تک پہنچایا جائے گا جس کے بعد فرانزک ٹیم جہاز سے ملنے والی لاشوں کی شناخت کرے گی۔

گزشتہ برس حادثے کے فوراﹰ بعد امدادی اہلکاروں نے اٹھائیس افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا تھا جب کہ چوبیس لاشیں بھی نکال لی گئی تھیں۔ بعد ازاں مزید 118 لاشیں برآمد کی گئی تھیں تاہم جہاز کے اندر پھنسے تارکین وطن کی لاشیں نہیں نکالی جا سکی تھیں۔

گزشتہ برس مئی کے مہینے میں اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی نے کہا تھا کہ سمندر کے گہرے پانیوں میں موجود ان پناہ گزینوں کی لاشیں نکالنا اٹلی کے لیے قومی وقار کا معاملہ ہے۔

حادثے کے ایک ماہ بعد رینزی نے کہا تھا، ’’ہم سمندر میں ڈوبے اس جہاز کو کھینچ کر باہر نکالیں گے اور اس حادثے کے بارے میں پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ جو سوچتے ہیں کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

DW.COM