1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اٹلی اور بیلجیم میں فائرنگ کے واقعے، افسوس اور خوف کی فضا

ایک ہی دن میں یورپ کے دو ملکوں میں اندھادھند فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ لی ایژ اور فلورینس کے واقعات نے پورے یورپ کو ایک خاص انداز کے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ فائرنگ کے واقعات میں ملوث افراد نے بعد ازاں خود کشی کر لی۔

default

بیلجیم اور اٹلی میں رونما ہونے والے فائرنگ کے ان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق تو نہیں لیکن عوام خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کے حملوں کا کوئی بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ اٹلی میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ایک مصنف نے سینیگال سے تعلق رکھنے والے دو تارکین وطن کو گولی مار دی۔ گزشتہ روز ہی بیلجیم میں فائرنگ اور دستی بم کے حملوں میں پانچ شہریوں کی جانیں گئیں۔ فائرنگ کے دونوں واقعات میں ملوث افراد نے بعد ازاں خود کشی کر لی۔ بیلجیم کے شہر ’لی ایژ‘ میں اندھا دھند فائرنگ اور دستی بموں کے حملوں میں ملوث 33 سالہ ملزم نور دین عَمرانی کے گھر سے ایک خاتون کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

Attentat in Florenz Italien

اٹلی میں رونما ہونے والے حملے کو نسلی پرستی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے

اس دوران بیلجیم سے تعلق رکھنے والے یورپی یونین کے سربراہ ہیرمن فان رومپوئے نے اس واقعے پر شدید حیرت کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں ان لوگوں کو یاد کررہا ہوں، جو موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ میری تمام تر ہمدردیاں زخمیوں اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔ اس واقعے کی کسی بھی طور وضاحت نہیں کی جا سکتی‘‘۔ بیلجیم کے حکام نے بتایا کہ ملزم کو 2008ء میں بھنگ کی کاشت اور اسلحہ رکھنے کے جرم میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔2010ء میں اسے قبل از وقت رہا کر دیا گیا تھا۔ بیلجیم کے ایک ٹی وی چینل کے مطابق ملزم پر گزشتہ برسوں کے دوران لگ بھگ بیس مرتبہ قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی ہے۔

بہرحال ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ لی ایژ میں پیش آنے والے واقعے کا پس منظر کیا ہے۔ تاہم اٹلی میں رونما ہونے والے حملے کو نسلی پرستی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انتہا پسند نظریات کےحاملGianluca Casseri نے فلورینس کے دو مرکزی علاقوں میں گھات لگا کر دو مختلف مقامات پر سینیگال سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔ پچاس سالہ اطالوی باشندے نے تین فائر کیے، جس کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ تیسرا زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں Casseri گاڑی میں بیٹھ کر شہر میں واقع San Lorenzo نامی مرکزی مارکیٹ پہنچا، اور وہاں اس نے سینیگال ہی کے مزید دو افراد کو زخمی کر دیا۔

Attentat in Lüttich Belgien

بیلجیم میں فائرنگ اور دستی بم کے حملوں میں پانچ شہریوں کی جانیں گئیں

فلوریسن میں موجود سینگال کے ایک شہری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔’’ ہم محض اپنی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور انصاف کے طلب گار ہیں۔ اس نوعیت کے واقعے رونما نہیں ہونے چاہییں۔ ہم اس معاشرے میں ضم ہونے کے لیے آئے ہیں نہ کہ قتل ہونے کے لیے‘‘۔

اٹلی میں پولیس نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں گروپوں کے خلاف چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس دوران پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید سولہ کی تلاش جاری ہے۔ اس دوران بیلجیم اور اٹلی میں شہریوں نے موم بتیاں جلا کر مرنے والوں کو یاد کیا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: حماد کیانی

DW.COM