1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اٹلی آنے والے تارکین وطن کی تعداد آج بھی دو برس پہلے جتنی

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال بھی بحیرہ روم کے راستے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد پچھلے برسوں جتنی ہی ہے۔ اس سے قبل خیال یہ تھا کہ ترکی اور یورپ کے مابین معاہدے کے بعد زیادہ تارکین وطن اٹلی کا رخ کر رہے ہیں۔

اطالوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران بحیرہ روم کے سمندری راستے سے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد تقریباﹰ اتنی ہی رہی، جتنی کہ پچھلے دو برسوں کی پہلی ششماہیوں میں بھی رہی تھی۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

روم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال کی پہلی ششماہی کے دوران 70 ہزار 930 تارکین وطن سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچے۔ یہ تعداد 2015ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران اٹلی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کے تقریباﹰ برابر جب کہ 2014ء کی پہلی ششماہی کی نسبت تھوڑی سی زیادہ ہے۔

2015ء کے پورے سال میں لیبیا اور دیگر افریقی ممالک کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 53 ہزار رہی تھی۔

بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی بڑی تعداد نے اٹلی پر کافی بوجھ ڈال رکھا ہے۔ اس سال جون کے آخر تک ایک لاکھ 32 ہزار تارکین وطن مہاجرین کے طور پر اٹلی میں اپنی رجسٹریشن کرا چکے تھے۔ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کے لیے رہائش اور دیگر سہولیات کا انتظام کرنا اٹلی کے لیے ابھی تک ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

رواں برس مارچ کے مہینے میں یورپی یونین اور ترکی کے مابین ایک متنازعہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت غیر قانونی طور پر ترکی سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیجا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں بلقان کی ریاستوں نے بھی اپنی قومی سرحدیں بند کر رکھی ہیں، جس کے باعث پناہ گزینوں کے لیے شمالی اور مغربی یورپی ممالک پہنچنے کے زمینی راستے تقریباﹰ مسدود ہو چکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:11

بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے خوفناک مناظر

اس صورت حال کے باعث تارکین وطن بحیرہ روم کا نسبتاﹰ طویل اور خطرناک سمندری راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے بتایا تھا کہ صرف مئی کے اواخر میں سات سو سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

اطالوی حکام کے مطابق اٹلی کا رخ کرنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق افریقی ممالک سے ہے۔ اس سال اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن میں سے 15 فیصد کا تعلق نائجیریا جب کہ 13 فیصد کا تعلق اریٹریا سے ہے۔ علاوہ ازیں گیمبیا، سوڈان، صومالیہ اور دیگر افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد بھی انہی خطرناک سمندری راستوں سے اٹلی پہنچی ہے۔

روم میں ملکی وزارت داخلہ کے مطابق اس سال اٹلی پہنچنے والوں میں نابالغ تارکین وطن کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنوری سے جون کے درمیان ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد تنہا اور کم عمر تارکین وطن اٹلی پہنچے تھے اور یہ رجحان ابھی تک جاری ہے۔ اس کے برعکس پورے سال 2015ء میں ایسے نابالغ مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد 13 ہزار رہی تھی۔

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

DW.COM

Audios and videos on the topic