آکسفیم کے چیئرمین کرپشن کے الزامات کے بعد گرفتار | معاشرہ | DW | 13.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آکسفیم کے چیئرمین کرپشن کے الزامات کے بعد گرفتار

برطانوی امدادی تنظیم آکسفیم کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، قابل اعتراض جنسی رویوں کے الزامات کے بعد آکسفیم کے چیئرمین خوان البرٹو فیونتیس کو گوئٹے مالا میں کرپشن کے الزامات میں گرفتارکرلیا گیا ہے۔ 

گوئٹے مالا کے کرپشن کے انسداد کے محکمے کے سربراہ خوان فرانسسکو سینڈووال نے ایک مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مالی بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں کی جانے والے کارروائی میں دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں برطانوی فلاحی ادارے آکسفیم کے چیئرمین بھی شامل ہیں۔

آکسفیم کے موجودہ چیئرمین خوان البرٹو فیونتیس گوئٹے مالا کے سابق وزیرِ خزانہ بھی ہیں۔ ان کی مالی بدعنوانی کے سلسلے میں گرفتاری کے بعد اس برطانوی فلاحی ادارے کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

قبل ازاں  ہیٹی میں2010ء کے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران اس برطانوی فلاحی تنظیم کے کارکنوں کے مقامی جسم فروش خواتین کے ساتھ تعلقات کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ 

گزشتہ ہفتے آکسفیم کے کارکنوں پر 2006ء میں افریقی ملک چاڈ میں بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان خبروں کے بعد یورپی کمیشن آکسفیم کو فراہم کی جانے والی امداد روک دینے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔

پے در پے ایسی خبروں کے بعد آکسفیم کی پریشانی میں مزید اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس مشکل وقت میں اس برطانوی امدادی تنظیم  کی نائب سربراہ پینی لارنس نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لارنس نے مستعفی ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ادارے کے ملازمین کے غیر اخلاقی طرز عمل کی مکمل ذمے داری قبول کرتی ہیں اور وہ اس بابت شرمندہ ہیں۔

 

 

 

DW.COM