1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آرٹ کے ذریعے اپنے کلچر کو زندہ رکھتے مہاجرین

پیرس کے شمالی علاقے کی ایک عمارت میں ہیڈ فون پہنے کرم الزوہیر نامی شامی موسیقار نہایت انہماک سے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ 30 سالہ زوہیر ایک آرٹسٹ ہیں جنہوں نے 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے کچھ عرصے بعد ہجرت کی۔

اس وقت وہ فرانسیسی مصنف کلیر اودھے کے تعاون سے بچوں کے لیے ایک میوزیکل شو ترتیب دے رہے ہیں جن میں مہاجر بچے اپنی کہانیاں سنائیں گے۔

الزوہیر کہتے ہیں کہ کئی معاملات میں بچے، بڑوں کے مقابلے میں زیادہ باشعور اور خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ’’ بچوں نے جس طرح سے بحرانوں کا سامنا کیا ہے، ہم ان کے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘‘   

   

  

الزوہیر ان 200 موسیقاروں، مجسمہ سازوں اور مصوروں میں سے ایک ہیں جو جنگوں سے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور پیرس میں ہونے والی ایک ورکشاپ میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ ورکشاپ سابق تھیئٹر منیجرز آریل سیپل اورجوڈتھ ڈیپاؤلے کی قائم کردہ ایجنسی برائے جلاوطن آرٹسٹ یا ’’ایجنسی فار آرٹسٹ اِن ایگزائل‘‘ کے تحت معنقد کی گئی تھی ۔ یہ ایجنسی  شام، یمن اور عوامی جمہوریہ کانگو سے ہجرت کر کے آئے ہوئے آرٹسٹوں کو اپنا کام جاری رکھنے اور اپنی زندگیوں کو نئے سرے سے شروع کرنے میں مدد دیتی ہے۔

’ہمیں خود کو ثابت کرنے کا موقع دیا جائے‘

'مہاجر بچوں کی فیملی ری یونین کا عمل تیز کیا جائے‘

ہپ ہاپ سے گڑیوں تک

ایجنسی برائے جلاوطن آرٹسٹ میں منعقد کرائی جانے والی ورکشاپس  میں کم عمر بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ہپ ہاپ میوزک کی کلاسوں سے لے کر   افغان آرٹسٹ کبریٰ خادمی کی گڑیوں  کی کلیکشن تک موجود ہے جن کے آرٹ ورک کا محور خواتین ہیں۔ یہاں موجود مہاجر آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس نہیں جانا چاہتے تاہم وہ اپنے ملک کے کلچر کو اپنے آرٹ کے ذریعے زندہ رکھنے کے لیے کوششوں کا حصہ بنے رہیں گے۔ 

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق سال 2017 میں جنگ سے متاثرہ شام اور مشرق وسطیٰ جبکہ غربت کے شکار ایشیائی اور افریقی ممالک سے مجموعی طور پر تقریباﹰ چار لاکھ سے زائد مہاجرین نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں۔ گو فرانس کو دیگر یورپی ممالک کی نسبت مہاجرین کے بحران کا سامنا کم ہی ہے تاہم برطانیہ میں داخل ہونے کے خواہشمند مہاجرین اس ملک کو گزرگاہ کے بطور استعمال کرتے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات