1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اُڑی حملے کے ثبوت پاکستان کو دے دیے گئے‘

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اُڑی حملے میں ’پاکستانی جنگجوؤں کے ملوث‘ ہونے کے ثبوت پاکستان کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ بھارتی کشمیر میں ہوئے اس حملے کے باعث ہمسایہ ممالک کے تعلقات کشیدہ رنگ اختیار کر چکے ہیں۔

گزشتہ دس دنوں کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو اُڑی میں ہوئے حملے میں ’سرحد پار عناصر‘ کے حوالے سے ثبوت فراہم کیے ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ستائیس ستمبر بروز بدھ اپنے ٹوئٹر پیغامات میں کہا ہے کہ یہ ثبوت بھارت میں تعینات پاکستانی سفیر عبدالباسط کو طلب کر کے ان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایس جے شنکر نے پاکستانی ہائی کمشنر کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ ایک حملہ آور کا نام حافظ احمد ہے۔ اس کے والد کا نام فيروز بتایا گیا ہے۔ سوروپ کے مطابق حافظ احمد پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد کا رہائشی تھا۔

سوروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی دیہاتیوں نے ایسے دو افراد کو پکڑ کر فوج کے حوالے کیا ہے، جنہوں نے حملہ آوروں کے لیے بطور گائیڈ کام کیا تھا۔ اٹھارہ ستمبر کو اُڑی میں بھارتی فوج کے صدر دفاتر پر کیے گئے حملے میں اٹھارہ فوجی جوان مارے گئے تھے۔ نئی دہلی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے پاکستان سے جنگجو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم اسلام آباد حکومت ایسے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

بھارتی وزرات خارجہ کے ترجمان سوروپ کے مطابق بیس سالہ فضل حسین اعوان ولد گل اکبر اور انیس سالہ یاسین خورشید ولد محمد خورشید زیر حراست ہیں۔ سوروپ کے مطابق وزیر خارجہ شینکر نے عبدالباسط کو بتایا ہے کہ اعوان نے دوران تفتیش اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے پاکستان سے سرحد پار کر کے بھارت داخل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے ’گائیڈ اور سہولت کار‘ کا کردار ادا کیا تھا۔

سوروپ نے مزید کہا ہے کہ ان دو پاکستانی شہریوں کے علاوہ تئیس ستمبر کو ایک اور پاکستانی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کا نام عبدالقیوم بتایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر سیالکوٹ کا رہائشی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عبدالقیوم نے لشکر طیبہ سے عسکری تربیت بھی حاصل کر رکھی ہے۔ وکاس سوروپ کے مطابق بھارت میں دہشت گردی میں ملوث ان مشتبہ ملزمان کو سفارتی رسائی مہیا کی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہوئے اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جانا چاہییں۔ اسلام آباد حکومت ان بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانبدار تفتیشی عمل میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔