1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اُسامہ ہَنٹر‘ اب پاکستان سے امریکہ پہنچا

القاعدہ چیف اُسامہ بن لادن کو مارنے کے ارادے سے پاکستان جانے والے امریکی شہری گیری فالکنر واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انہیں تیرہ جون کو ایک پستول، تلوار اور نائٹ وژن چشمے کے ساتھ حراست میں لیا تھا۔

default

گیری فالکنر

پاکستانی حکام نے ’اُسامہ ہَنٹر‘ گیری فالکنر پرکوئی فرد جرم عائد نہیں کی اور تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی ضروری تفتیش کے بعد رہا کر دیا۔ امریکہ پہنچنے پر جب نامہ نگاروں نے ’اُسامہ ہنٹر‘ سے یہ پوچھا کہ کیا وہ القاعدہ رہنما بن لادن کی تلاش میں دوبارہ پاکستان جائیں گے، تو انہوں نے کہا: ’’بالکل، بہت جلد۔‘‘ گیری فالکنر کے بھائی سکاٹ فالکنر نے ’بن لادن ہَنٹر‘ کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

گیری بروکس فالکنر نامی اس پچاس سالہ کنسٹرکشن ورکر کو شمالی پاکستان کی وادیء چترال سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہ امریکی باشندہ چھری اور تلوار جیسے علامتی ہتھیاروں سے لیس تھا اور اس کا ارادہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرکے اسے قتل کرنا تھا۔

Kaschmir Landschaft

فالکنر کو پاکستان کے شمالی علاقے سے گرفتار کیا گیا

گیری فالکنر کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ فالکنر ہتھیاروں سمیت امریکہ سے پاکستان کی چترال وادی پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوا، اس بارے میں تفتیش کاروں نے کچھ نہیں بتایا ہے۔

پاکستانی خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ فالکنر سے دوران تفتیش بہت سے سوالات پوچھے گئے۔’’تلوار اور چھری جیسے ہتھیاروں سے اسامہ بن لادن کو مارنا کیسے ممکن ہے؟‘

پاکستانی تفتیش کار اس امریکی شہری کی نفسیاتی جانچ کرانے کے بارے میں بھی سوچ بچار کر رہے تھے۔ یہ امریکی بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے کے بعد ہلاک کرنے کے ارادے سے پاکستان گیا تھا۔ تفتیش کاروں نے یہ پتا لگانے کی کوشش بھی کی تھی کہ کہیں ماضی میں یہ شخص نفسیاتی مسائل کا شکار تو نہیں رہا ہے۔ پولیس افسر ممتاز احمد خان نے اس امریکی شہری کے بارے میں کہا تھا کہ اس کے لمبے بال ہیں اور داڑھی ہے اور بظاہر لگتا ہےکہ 'بوکھلاہٹ‘ کا شکار ہے۔ خان کے مطابق فالکنر ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون کے ساتھ ساتھ گردے کی تکلیف میں بھی مبتلا تھا۔

امریکہ میں فالکنر کے بھائی نے بتایا تھا کہ اس کا بھائی نہ تو دیوانہ ہے اور نہ ہی کسی دماغی مرض میں مبتلا ہے۔ سکاٹ فالکنر کے مطابق گیری فالکنر ایک محب وطن اور خدا پر یقین کرنے والا شخص ہے۔’’میرا بھائی پچیس ملین ڈالر کی رقم حاصل کرنے کے لئے اسامہ کو مارنے نہیں نکلا تھا۔ وہ اپنے وطن سے محبت کے جذبے اور خدا پر پختہ یقین لئے اس مشن پر تھا۔‘‘ سکاٹ فالکنر نے مزید کہا کہ گیری فالکنر کو گیارہ ستمبر کے حملوں سے بہت صدمہ پہنچا تھا اور اسے اسامہ کی جانب سے ’مسیحیت کے خلاف بیانات‘ پر بھی بہت غصہ تھا۔

گیری فالکنر ایک سیاح کی حیثیت سے تین جون کو وادیء چترال پہنچا تھا، وہاں کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹھہرا، اسے روایتی سیکیورٹی بھی دی گئی لیکن پھر وہ اچانک غائب ہوگیا تھا۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM