1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اُسامہ بن لادن کی موت کے بعد کا پاکستان، ایک سروے

ممتاز جرمن ادارہ کونراڈ آڈیناور فاؤنڈیشن آج اسلام آباد میں ایک سروے کے نتائج جاری کر رہا ہے، جس میں پاکستانی شہریوں سے اِس بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے کہ اُسامہ بن لادن کی موت کے بعد اُن کے احساسات کیا ہیں۔

default

مثلاً اس سروے کے دوران شہریوں سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اُنہیں واقعی اس بات کا یقین ہے کہ اُسامہ بن لادن مر چکا ہے؟ اور یہ کہ وہ امریکہ کو زیادہ تر ایک دوست کے طور پر دیکھتے ہیں یا دشمن کے طور پر؟ اس سروے کے نتائج حیرت انگیز بتاتے ہوئے نئی دہلی سے کائی کیوسٹنر اپنے جائزے میں لکھتے ہیں:

’’امریکہ بڑا ہے، طاقتور ہے اور ایک مسئلہ ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کے خیال میں خطّے کے تمام مسائل کا ذمہ دار صرف اور صرف امریکہ ہے۔ کونراڈ آڈیناور فاؤنڈیشن کے سروے میں شریک پانچ سو پاکستانی شہریوں سے جب یہ پوچھا گیا کہ اُن کی نظر میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہے تو اس فاؤنڈیشن کے اسلام آباد دفتر کے سربراہ بابک خلعت باری کے مطابق جواب بالکل واضح تھا:’’سروے میں شریک 38 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ سب سے بڑا خطرہ امریکہ کی طرف سے درپیش ہے۔ یہ بات درحقیقت حیران کن ہے کیونکہ امریکہ پاکستانیوں کا ایک اچھا پارٹنر ہے اور اس ملک کو سالانہ چار ارب ڈالر دیتا ہے۔‘‘

اس سروے کا اہتمام جرمن ادارے کونراڈ آڈیناور فاؤنڈیشن کے اسلام آباد دفتر نے کیا ہے

اس سروے کا اہتمام جرمن ادارے کونراڈ آڈیناور فاؤنڈیشن کے اسلام آباد دفتر نے کیا ہے

سروے کے شرکاء نے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر اقتصادی بحران کو اور تیسرے نمبر پر دہشت گردوں کو بڑا خطرہ قرار دیا۔ ہمسایہ ملک اور کٹر حریف بھارت خطرات کی اس فہرست میں کہیں آخری نمبر پر رہا۔

بہت سے پاکستانیوں کو یہ بات غالباً بہت بری لگی ہے کہ دو مئی کو امریکہ نے پاکستان کی حاکمیتِ اعلیٰ کا احترام کیے بغیر اُسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کی۔ تاہم سروے کے بہت کم شرکاء نے اس یقین کا اظہار کیا کہ القاعدہ کا سربراہ درحقیقت ایبٹ آباد آپریشن میں مارا گیا تھا۔

سروے کے شرکاء کی اکثریت نے یہ کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جانی چاہیے

سروے کے شرکاء کی اکثریت نے یہ کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جانی چاہیے

بابک خلعت باری کہتے ہیں:’’جواب بہت دلچسپ تھا کیونکہ جہاں 69 فیصد نے پہلے سوال کے جواب میں یہ کہا کہ وہ ہلاک ہو چکا ہے، وہاں صرف 28 فیصد کو یقین تھا کہ وہ واقعی مارا بھی گیا ہے۔ 72 فیصد نہیں سمجھتے کہ اُسے ایبٹ آباد میں مارا گیا، زیادہ تر پاکستانیوں کے خیال میں وہ پہلے ہی مارا گیا تھا یا یہ کہ وہ ابھی بھی زندہ ہے۔‘‘

بابک خلعت باری کے مطابق پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کا مطلب یہ ہرگز یہ نہیں کہ لوگ طالبان کے حامی ہیں۔ سروے کے شرکاء کی اکثریت نے یہ کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جانی چاہیے۔‘‘

رپورٹ: کائی کیوسٹتر (نئی دہلی) / امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس