1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ايک ہفتے ميں پانچ ہزار مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا

پچھلے قريب ايک ہفتے کے دوران بحيرہ روم ميں ليبيا اور اٹلی کے ساحلی علاقوں سے پانچ ہزار تارکين وطن کو بچايا جا چکا ہے۔ گرچہ حاليہ چند ماہ ميں ہجرت کرنے والوں ميں کمی واقع ہوئی ہے تاہم غير قانونی ہجرت اب بھی ختم نہيں ہوئی۔

ليبيا کے کوسٹ گارڈز نے پچھلے ايک ہفتے کے دوران بحيرہ روم ميں تين ہزار سے زائد پناہ گزينوں کو ريسکيو کيا ہے۔ اسی دوران اطالوی حکام نے بھی دو ہزار کے لگ بھگ تارکين وطن کو ڈوبنے سے بچايا۔ ليبيا سے غير قانونی انداز ميں يورپ ہجرت کرنے والوں ميں پچھلے کچھ مہينوں کے دوران کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ايک ہفتے کے دوران پانچ ہزار سے زائد مہاجرين کا ريسکيو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہجرت کا يہ سلسلہ ابھی ختم نہيں ہوا ہے۔

ليبيا کی بحريہ کے جنرل ايوب قاسم نے بتايا کہ گزشتہ ايک ہفتے کے دوران ذاويہ اور صبراتہ شہروں کے قريب سمندری علاقوں سے مہاجرين کو بچايا گيا۔ ان کے بقول پچھلے ہفتے پير تا جمعہ 2,082 تارکين وطن کو ريسکيو کيا گيا جبکہ ہفتے کو مزيد 1,047 مہاجرين کو ڈولبنے سے بچايا گيا۔

جولائی کے وسط سے اب تک تقريباً ساڑھے چھ ہزار تارکين وطن اٹلی پہنچ چکے ہيں۔ اس تعداد کا اگر پچھلے تين برس سے موازنہ کيا جائے، تو يہ ان تينوں سالوں ميں اسی عرصے کے دوران يورپ پہنچنے والے تارکين وطن کی مجموعی تعداد کا پندرہ فيصد بھی نہيں بنتی۔

دريں اثناء ليبيا ميں انسانوں کے ايک سابق اسمگلر کی مليشيا کے سرکاری افواج کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہيں، جن ميں کم از کم ايک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ ’گورمنٹ آپ نيشنل اکارڈ‘ کے حامی دستوں کے مطابق ايک مقامی مليشيا کے چار ارکان نے ايک سرکاری چيک پوائنٹ پر دھاوا بول ديا اور افواج کی جوابی کارروائی ميں مليشيا کا ايک رکن ہلاک اور تين ديگر زخمی ہو گئے۔ متعلقہ مليشيا کا سربراہ احمد دباشی ہے، جو  ماضی میں انسانوں کی اسمگلنگ ميں ملوث رہا ہے۔ صبراتہ ليبيا ميں انسانوں کی اسمگلنگ کا گڑھ بن کر سامنے آيا ہے۔

DW.COM